مصطفیٰ کمال کا مناظرے کا چیلنج قبول،مرتضیٰ وہاب نے دوٹوک جواب دیدیا

کراچی(جانو ڈاٹ پی کے) میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کی جانب سے مناظرے کا چیلنج قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ جگہ کا تعین کریں، میں پہنچ جاؤں گا۔
ضلع وسطی کے علاقے شادمان ٹاؤن میں پارک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے مصطفیٰ کمال کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے مخالف اگر میری مخالفت نہیں کریں گے تو پھر وہ مخالف نہیں رہیں گے، جمہوریت کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، اختلاف اور مخالفت جمہوری سیاست کا حصہ ہیں۔
میئر کراچی نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کسی ٹھنڈے کمرے میں بیٹھتے ہیں جبکہ وہ آج بھی فیلڈ اور گراؤنڈ میں موجود ہیں۔ کراچی کے شہری بوری بند ہڑتالوں اور تشدد والا کراچی نہیں چاہتے۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف معصومانہ سوال کیا تھا کہ پیسے کب منظور کرائے گئے، مگر مصطفیٰ کمال اس سوال پر اتنے غصے میں آگئے۔ انہوں نے وفاقی وزیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ وزیر صحت ہیں، اپنی صحت کا بھی خیال رکھیں۔
میئر کراچی نے مزید کہا کہ انہیں الطاف حسین کی پپی والی ویڈیو نہیں چاہیے بلکہ کاغذات دکھائے جائیں۔ ابھی ٹویٹ کرکے بتائیں کہ 300 ارب روپے کب اور کس وقت کونسل سے منظور کرائے گئے؟
انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کو معلوم ہونا چاہیے کہ وسیم اختر اور مرتضیٰ وہاب میں فرق ہے، اب پہیہ جام نہیں ہوگا بلکہ پہیہ چلے گا۔
مناظرے کے چیلنج پر مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ مصطفیٰ کمال بتائیں کہاں ملاقات کرنی ہے، خیابانِ سحر، ملائیشیا، دبئی یا اسلام آباد، وہ جہاں کہیں گے وہاں پہنچ جائیں گے۔
مرتضیٰ وہاب نے مصطفیٰ کمال کے سیاسی ماضی پر بھی طنز کیا اور کہا کہ وہ پہلے قائد کے خلاف بات کرنے والوں کو کیا کہتے تھے، سب جانتے ہیں۔ وقت بدلا تو بھائی برا ہوگیا، اس کے بعد مصطفیٰ کمال نے اپنی پارٹی بنالی۔
انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال ڈولفن اور پی ایس پی چلانے کی باتیں کرتے رہے، جبکہ دو ڈھائی سو ارب روپے کے دعوے بھی کیے گئے۔ انہوں نے خود کو کراچی کا سیکنڈ بیسٹ میئر قرار دیا، لیکن بلدیاتی انتخابات میں ان کی جماعت پانچویں نمبر پر آئی۔
میئر کراچی نے کہا کہ اس صورتحال کے بعد مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم اور پتنگ کے خاتمے کا مطالبہ شروع کردیا۔ مرتضیٰ وہاب کے سخت الفاظ کے بعد کراچی کی سیاست میں ایک نیا سیاسی محاذ کھلنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔



