ایران اور عمان کا بڑا قدم، آبنائے ہرمز میں عارضی بحری کوریڈور کی تجویز

مسقط (جانو ڈاٹ پی کے) آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی اور خطے میں تجارتی بحری آمدورفت کو معمول پر لانے کے لیے ایران، عمان، عراق اور خلیجی ممالک کا اہم علاقائی اجلاس پیر کو مسقط میں ہوگا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت، عارضی بحری راستوں کے انتظام اور انہیں محفوظ بنانے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اسماعیل بقائی کے مطابق اجلاس میں ایران اور عمان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتائج کا بھی جائزہ لیا جائے گا، جن میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے عارضی بحری راستوں کے قیام پر ہونے والی بات چیت شامل ہے۔

ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والا فریم ورک تجارتی بحری ٹریفک کو مرحلہ وار منظم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

ایران اور عمان کا عارضی بحری کوریڈور

دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز میں ایک عارضی مشترکہ نیوی گیشن کوریڈور کے قیام پر پہلے ہی بات چیت ہوچکی ہے۔ مجوزہ انتظام کے تحت تجارتی جہازوں کو ایرانی پانیوں سے داخل ہوکر عمانی جانب سے آبنائے سے نکلنے کا راستہ فراہم کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران اور عمان نے آبنائے میں ممکنہ بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے مشترکہ منصوبے پر بھی بات چیت کی ہے۔

خلیجی ممالک اس انتظام کی حمایت کے ساتھ اس بات کی ضمانت چاہتے ہیں کہ مجوزہ طریقہ کار عارضی نوعیت کا ہو اور تجارتی جہازوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت برقرار رہے۔

خلیجی ممالک کی شرکت کیوں اہم ہے؟

اجلاس میں خلیج تعاون کونسل (GCC) کے رکن ممالک کی شرکت اس لیے اہم قرار دی جا رہی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری تجارت کا براہ راست تعلق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کی معیشتوں اور توانائی کی برآمدات سے ہے۔

عراق کو بھی مذاکرات میں شامل کیا گیا ہے۔ علاقائی ممالک کی کوشش ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے جس پر ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان کم از کم عارضی اتفاق رائے قائم ہوسکے۔

اس پیش رفت کو خطے میں تجارتی جہاز رانی، توانائی کی عالمی سپلائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button