ایران کا امریکا سے خطے میں امن کیلئے عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرنے کا مطالبہ

تہران(ویب ڈیسک) ایران نے یمن کی انصار اللہ سے متعلق واشنگٹن کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثی تحریک اپنے فیصلے خود کرتی ہے اور کسی ملک کے احکامات پر عمل نہیں کرتی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ انصار اللہ یمن کی ایک خودمختار تنظیم ہے، جو اپنے فیصلے خود کرتی ہے، نہ وہ کسی سے احکامات لیتی ہے اور نہ ہی کسی کی پراکسی ہے۔

اسماعیل بقائی نے خطے میں جاری کشیدگی کا ذمہ دار امریکی پالیسیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ امریکی فوجی مداخلت اور حاکمانہ پالیسیاں ہیں۔

ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن حقیقی معنوں میں خطے میں امن چاہتا ہے تو اسے عدم استحکام پیدا کرنے والی فوجی مداخلت اور پالیسیوں کا سلسلہ ختم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بمباری اور بیرونی دباؤ کے ذریعے یمن میں پائیدار امن قائم نہیں کیا جاسکتا، یمنی بحران کا حل تمام فریقوں کے متفقہ روڈ میپ کی بنیاد پر بامعنی اور حقیقی مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔

ایرانی مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں کے سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے، جبکہ ریاض کی جانب سے یمن میں حوثی اہداف کے خلاف جوابی کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button