سندھ اسمبلی میں بڑا ہنگامہ، لیوی ٹیکس کے خاتمے کی قرارداد منظور

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) سندھ اسمبلی کے اجلاس میں لیوی ٹیکس ختم کرنے کے مطالبے کی قرارداد منظور کرلی گئی، جبکہ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے شدید احتجاج اور نعرے بازی بھی کی گئی۔
اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ وقفہ سوالات کے دوران ایم کیو ایم کے رکن طہ احمد مسلسل اظہار خیال کرتے رہے، جس پر اسپیکر نے انہیں بیٹھنے اور وقفہ سوالات جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
اجلاس کے دوران حکومتی ارکان کی جانب سے ویڈیوز چلانے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جبکہ ایم کیو ایم ارکان نے شور شرابہ اور نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ "لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی”۔
اپوزیشن ارکان نے احتجاج کے دوران "سندھ دیش نامنظور” اور "اسپیکر گردی نامنظور” کے نعرے بھی لگائے، جس سے ایوان کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔
لیوی ٹیکس کے خاتمے کی قرارداد منظور
اجلاس میں لیوی ٹیکس ختم کرنے کی قرارداد پر وزیر قانون سندھ ضیا الحسن لنجار نے مؤقف اختیار کیا کہ لیوی ٹیکس وفاقی حکومت کا معاملہ ہے اور سندھ حکومت اسے براہ راست ختم نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت وفاقی حکومت سے لیوی ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کرسکتی ہے، جس کے بعد سندھ اسمبلی نے وفاقی حکومت سے لیوی ٹیکس ختم کرنے کے مطالبے کی قرارداد منظور کرلی۔
سرکاری اساتذہ کیلئے انشورنس پالیسی کی قرارداد
جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے سرکاری اساتذہ کے لیے انشورنس پالیسی متعارف کرانے اور دورانِ سروس وفات پانے والے اساتذہ کے لیے سہولیات فراہم کرنے کی قرارداد بھی پیش کی۔
کرسچن فیملی لا 2026 اسمبلی میں پیش
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں کرسچن فیملی لا 2026 بھی پیش کردیا گیا۔ ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید نے بل ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ سو سال بعد کرسچن فیملی لا اسمبلی میں آیا ہے۔
انہوں نے اپوزیشن سے بل کی حمایت کی درخواست کرتے ہوئے خواہش ظاہر کی کہ اسے پیش کرکے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ بعد ازاں بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے حوالے کردیا گیا۔
محمد فاروق نے بل کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کی، جبکہ اسپیکر اویس قادر شاہ نے اقلیتی امور کی کمیٹی میں محمد فاروق کو شامل کرنے کی ہدایت کی۔
پولیس تشدد کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھا دیا گیا
رکن اسمبلی سجاد علی نے پولیس کی جانب سے کارکنوں پر مبینہ تشدد کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ دو ایس ایچ اوز نے کارکنوں پر تشدد کیا اور ایک کارکن کی ٹانگ توڑ دی گئی۔
سجاد علی نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان ایس ایچ اوز سے "سود سمیت بدلہ لیں گے”۔
اجلاس کے دوران مختلف سیاسی اور عوامی معاملات پر حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان گرما گرمی کے باعث سندھ اسمبلی کا ماحول خاصا ہنگامہ خیز رہا۔



