مشرق وسطیٰ سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی اطلاعات! قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی میں کھلبلی

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک سے پاکستانی کارکنوں کو نکالے جانے کی اطلاعات نے قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی میں تشویش کی نئی لہر دوڑا دی، جبکہ حساس نوعیت کے معاملے پر وزارت خارجہ حکام کی درخواست پر کمیٹی کا اجلاس ان کیمرہ کردیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن حنا ربانی کھر کی زیرصدارت ہوا، جس میں مشرق وسطیٰ میں مقیم پاکستانی کارکنوں سے متعلق اہم اور حساس معاملات پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران حنا ربانی کھر نے کہا کہ بحرین سمیت مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک سے پاکستانی کارکنوں کو نکالے جانے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں، جبکہ مسالک اور فرقوں کی بنیاد پر پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کیے جانے کی اطلاعات بھی انتہائی تشویش ناک ہیں۔

چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ اگر متعلقہ پاکستانی سفارت خانے اس معاملے پر ان کیمرہ بریفنگ دینا چاہتے ہیں تو کمیٹی کو اس بارے میں آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کمیٹی کو فراہم کی جانے والی نامکمل بریفنگ پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ اور پارلیمانی کمیٹیوں کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

حنا ربانی کھر نے سیکرٹری خارجہ کی اجلاس میں عدم شرکت پر بھی اعتراض اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیکرٹری خارجہ کو وزیراعظم ہاؤس جانا تھا تو کمیٹی کو پہلے سے آگاہ کیا جانا چاہیے تھا، اچانک یہ بتانا کہ سیکرٹری اجلاس میں شرکت نہیں کر رہیں، مناسب طریقہ کار نہیں۔

دوسری جانب وزارت خارجہ کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ سے پاکستانی کارکنوں کو نکالے جانے کا معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے۔ اجلاس کے دوران متعلقہ ممالک میں تعینات پاکستانی سفیروں نے بھی کمیٹی کو بریفنگ دی۔

حساس معاملات پر تفصیلی بریفنگ کے لیے وزارت خارجہ حکام کی درخواست پر اجلاس کو ان کیمرہ کردیا گیا، جس کے بعد بند کمرے میں مشرق وسطیٰ میں پاکستانی شہریوں کی صورتحال اور ان سے متعلق اطلاعات پر مزید تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں سامنے آنے والی اطلاعات نے بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کے حوالے سے ایک اہم سوال ضرور کھڑا کردیا ہے کہ مختلف ممالک سے پاکستانیوں کو نکالے جانے کی اصل صورتحال کیا ہے اور اس حوالے سے حکومت پاکستان نے کیا اقدامات کیے ہیں۔ تاہم ان کیمرہ اجلاس کے باعث اس معاملے کی مزید تفصیلات فوری طور پر منظرعام پر نہیں آسکیں۔

مزید خبریں

Back to top button