پنجاب میں احتجاجی تحریک مزید پھیلنے کا دعویٰ، حافظ نعیم الرحمان کا حکومت پر بڑا حملہ

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب بھر میں دھرنوں کا سلسلہ بڑھ رہا ہے اور جماعت اسلامی کی جدوجہد ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ نظام کی تبدیلی کی تحریک بن چکی ہے۔

لاہور میں خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ہڑتال کامیاب رہی اور 7 اگست کو 510 سڑکیں بند کی گئیں۔ ان کے مطابق احتجاج اور مزاحمت کا یہ عمل عوام میں شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے اور ان کی جدوجہد یقیناً منزل تک پہنچے گی۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت اور موجودہ سیاسی نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکمران طبقے نے جاگیرداروں اور وڈیروں پر مشتمل ایک کنسورشیم بنا رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مارشل لا ہو یا نام نہاد جمہوریت، یہی طبقہ مختلف شکلوں میں اقتدار کے قریب نظر آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طبقے کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ عوام کو بنیادی حقوق اور بہتر تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے۔ ان کے بقول طاقتور طبقہ بندوق اور طاقت کے ذریعے اقتدار حاصل کرکے عوام کو حق حکمرانی سے محروم کرتا ہے۔

مریم نواز پر بھی حافظ نعیم الرحمان نے شدید تنقید کی اور ان کے بیان کو ’’مکروہ‘‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب میں تعلیم کا نظام تباہ کیا جا رہا ہے، 11 ہزار اسکول فروخت کیے جاچکے ہیں جبکہ مزید 25 ہزار اسکولوں کو فروخت کرنے کی تیاری ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں نویں جماعت کے 50 فیصد سے زائد طلبہ فیل ہوئے، جبکہ دانش اسکولز کے ذریعے عوام کو دھوکا دیا گیا اور اربوں روپے کے استعمال پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ آج اساتذہ، ڈاکٹرز، کسان اور معاشرے کے مختلف طبقات احتجاج پر ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ عوام موجودہ نظام سے مطمئن نہیں۔ انہوں نے شریف خاندان کی سیاسی سوچ کو بھی سرمایہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک کا مقصد نظام میں بنیادی تبدیلی اور عوام کو ان کا حق دلانا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button