گھر میں آگ لگی ہو تو تقسیم کی بات نہیں ہونی چاہئے،مولانا فضل الرحمان کا نئے صوبوں پر بڑا بیان

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے): جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر اہم مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبوں کا معاملہ دراصل این ایف سی ایوارڈ کا معاملہ ہے، جبکہ ملک میں امن و امان کی تشویشناک صورتحال کے باعث اس وقت تقسیم کی بات نہیں ہونی چاہیے۔
لاہور میں اینکر پرسنز سے ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور نئے صوبوں کے قیام سمیت مختلف اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو کی۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ صوبوں کا معاملہ اصل میں این ایف سی کا معاملہ ہے، جبکہ آئین کے مطابق این ایف سی میں صوبوں کا حصہ بڑھ سکتا ہے، کم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے ملک کی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب گھر میں آگ لگی ہو تو تقسیم کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ملک کے تین صوبوں سے حکومت کی رٹ ختم ہوچکی ہے۔
جے یو آئی سربراہ نے مزید الزام عائد کیا کہ وفاق صوبوں کی معدنیات پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، جس کے باعث صوبائی حقوق کا معاملہ مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد فی الحال پارلیمان کی حد تک ہے، اسے مکمل سیاسی اتحاد قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان گراؤنڈ لیول پر سیاسی اتحاد موجود نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے بیان نے ایک مرتبہ پھر نئے صوبوں، این ایف سی ایوارڈ، صوبائی خودمختاری اور معدنی وسائل کی تقسیم کے معاملات کو سیاسی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔



