ثاقب چدھڑ کے مومنہ اقبال اور ان کی بہن پر سنگین الزامات

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال اور مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے جاری قانونی تنازع میں مزید پیش رفت سامنے آگئی۔

مومنہ اقبال نے چند ماہ قبل انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ایک رکن صوبائی اسمبلی کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ثاقب چدھڑ کا نام سامنے آیا۔ اداکارہ نے معاملہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) تک پہنچایا، جبکہ ثاقب چدھڑ نے بھی حکام کے سامنے اپنا مؤقف پیش کیا۔

اب اپنے پہلے تفصیلی انٹرویو میں ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال اور ان کی بہن رمشا اقبال کے حوالے سے متعدد دعوے کیے ہیں۔

ثاقب چدھڑ کے مطابق وہ رمشا اقبال کو اعلیٰ تعلیم کے لیے آسٹریلیا لے کر گئے تھے اور اپنی سیکیورٹی کمپنی میں انہیں ملازمت بھی فراہم کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ رمشا اقبال نے آسٹریلیا میں ان کے کاروباری پارٹنر کے خلاف مبینہ ہراسانی کا مقدمہ دائر کیا اور 10 لاکھ ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا، تاہم بعد ازاں معاملہ مبینہ طور پر 1 لاکھ 65 ہزار ڈالر میں طے پایا۔

ثاقب چدھڑ نے الزام عائد کیا کہ مومنہ اقبال اور ان کی بہن نے بعد میں ان کے خلاف بھی اسی نوعیت کا طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔

اپنے انٹرویو میں ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کی ذاتی زندگی سے متعلق بھی دعوے کیے اور کہا کہ اداکارہ کو علم تھا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں، اس کے باوجود وہ ان کی دوسری بیوی بننے پر آمادہ تھیں۔ تاہم یہ تمام دعوے ثاقب چدھڑ کا مؤقف ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

ثاقب چدھڑ نے مزید دعویٰ کیا کہ مومنہ اقبال کے وکیل نے ان سے رابطہ کرکے 20 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق رقم دینے سے انکار پر مبینہ طور پر 9 کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی، جبکہ مومنہ اقبال کی جانب سے 11 کروڑ روپے میں معاملہ طے کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی۔

ثاقب چدھڑ نے اپنے دعووں کے حق میں مومنہ اقبال کے وکیل سے ملاقات سے متعلق مبینہ شواہد اور ایک مبینہ صلح نامہ بھی پیش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب مومنہ اقبال کی جانب سے ان تازہ دعووں پر مؤقف سامنے آنے کی صورت میں معاملے کی مزید وضاحت ہوسکتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button