غذر میں بادل پھٹنے سے تباہی، سیلابی ریلوں نے گھر، فصلیں اور سڑکیں متاثر کر دیں
شاہراہ قراقرم سمیت متعدد راستے بند، 120 سیلابی واقعات رپورٹ، بابوسر ٹاپ پر رواں سیزن کی پہلی برف باری

گلگت(جانوڈاٹ پی کے) گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں بادل پھٹنے کے بعد آنے والے اچانک سیلاب نے مختلف علاقوں میں تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں گھروں، زرعی اراضی، فصلوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچا جبکہ بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔
شدید بارش کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں نے غذر کے مختلف علاقوں کو متاثر کیا۔ نوبہار گاؤں میں سیلابی ریلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچاتے ہوئے گش گش جماعت خانہ کو بھی نقصان پہنچایا، جبکہ فصلیں، پھل دار درخت اور زرعی زمین بھی تباہ ہوگئی۔
سیلاب کے باعث امیٹ سے برجنگل جانے والی سڑک بند ہوگئی اور بجلی کی ترسیلی لائنوں کو بھی نقصان پہنچا، جس کے باعث مقامی آبادی کا دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
متاثرہ شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ سڑک کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا جائے اور سیلاب متاثرین کو فوری امداد فراہم کرکے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔
گلگت بلتستان پولیس کے ترجمان کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سوست سے خنجراب ٹاپ تک شاہراہ قراقرم مکمل طور پر بند ہے، جبکہ متعلقہ ادارے سڑک کی بحالی کیلئے کام کر رہے ہیں۔ حکام نے سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب ٹورازم پولیس کے مطابق ہنزہ میں مرتضیٰ آباد اور حسن آباد کے درمیان شاہراہ قراقرم کا بند حصہ ٹریفک کیلئے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان میں یکم اگست سے وقفے وقفے سے بارش، گرج چمک اور آسمانی بجلی کا سلسلہ جاری ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس قدر شدید بارش پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
مسلسل بارش کے باعث خطے کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت بھی گر گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ دیامر کے مطابق بابوسر ٹاپ پر ہفتے کی صبح رواں سیزن کی پہلی برف باری ہوئی، تاہم بابوسر روڈ پر ٹریفک بدستور جاری رہی۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق جون سے اگست کے دوران خطے میں بادل پھٹنے اور گلیشیئرز پگھلنے کے نتیجے میں 120 سیلابی واقعات پیش آئے۔ ان واقعات میں درجنوں مکانات، زرعی اراضی، باغات، درخت، آبپاشی کی نہریں اور سڑکیں متاثر ہوئیں، جبکہ بجلی کے نظام کو بھی نقصان پہنچا۔
ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان میں موسمی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، جس کے باعث سیلاب، بادل پھٹنے، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی خطے کے نازک ماحولیاتی نظام کیلئے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ 8 ہزار سے زائد گلیشیئرز اور تقریباً 300 گلیشیائی جھیلوں پر مشتمل اس پہاڑی خطے میں آباد آبادی کو مستقبل میں قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا رہے گا۔


