اقوام متحدہ کا منشور… کیا اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے؟

ایمل امین
(عربی سے ترجمہ)
(ایمل امین مصری کالم نگار اور بین الاقوامی امور کے محقق ہیں۔ وہ عالمی سیاست اور بین الاقوامی معاملات پر لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں اور تحقیقی مطالعات کے مصنف ہیں)
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے آغاز میں اب صرف چند دن باقی ہیں۔ 8 ستمبر کو شروع ہونے والے اس اجلاس سے پہلے ایک سوال پوری شدت کے ساتھ دنیا کے سامنے کھڑا ہے: کیا اقوام متحدہ کا موجودہ منشور آج بھی اتنا مؤثر ہے کہ وہ دنیا کی آنے والی نسلوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچا سکے؟
آخر 1945 میں سان فرانسسکو میں جس ادارے کا قیام ہی دنیا کو جنگوں کی ہولناکی سے بچانے کے وعدے کے ساتھ کیا گیا تھا، وہ آج عالمی امن کے معاملے میں کہاں کھڑا ہے؟
گزشتہ سال یعنی 2025 میں دنیا نے دوسری عالمی جنگ کے بعد مسلح تنازعات کی سب سے زیادہ تعداد دیکھی۔ دوسری جانب کالینن گراڈ سے آنے والی خبروں نے روس اور نیٹو کے درمیان براہِ راست تصادم کے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے، جو ایک نئی عالمی جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔
دنیا میں کروڑوں انسان مشکلات اور تنگ دستی کا شکار ہیں، مگر اسی دنیا میں ہتھیاروں پر ہونے والا سالانہ خرچ بڑھ کر 2.9 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
اور اس سب کے درمیان وہ ادارہ موجود ہے جسے عالمی امن اور سلامتی کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل۔
لیکن اس کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو ایک وعدہ بار بار سوال بن کر سامنے آتا ہے: کیا سلامتی کونسل واقعی دنیا کو جنگوں سے بچانے میں کامیاب ہوئی ہے؟
شاید مسئلے کی جڑ اقوام متحدہ کے قیام کے وقت ہی موجود تھی۔
ان تمام برسوں میں اقوام متحدہ کے نظام پر سب سے بڑی تنقید جس چیز کے حوالے سے ہوئی، وہ ویٹو کا حق ہے۔ دنیا کے صرف پانچ ممالک کو یہ خصوصی اختیار حاصل ہے، جبکہ باقی تمام ممالک اس اختیار سے محروم ہیں۔
لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا منشور بنانے والوں نے خود بھی مستقبل میں اس میں تبدیلی کا راستہ کھلا رکھا تھا۔
منشور کی شق 109 میں واضح طور پر یہ گنجائش رکھی گئی تھی کہ دس سال کے اندر ایک ایسی عالمی کانفرنس بلائی جا سکتی ہے جس میں منشور کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔
اس شق کے تحت اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی دو تہائی اکثریت اور سلامتی کونسل کے نو ارکان کی منظوری سے ایک عمومی کانفرنس منعقد کی جا سکتی ہے، جس میں ہر رکن ملک کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہوگا۔
1945 میں اقوام متحدہ کا قیام اپنے دور کا ایک بڑا عالمی تجربہ تھا۔ اس سے پہلے قائم ہونے والی لیگ آف نیشنز یعنی انجمن اقوام یورپ میں جاری طاقت کی کشمکش کے سامنے ناکام ہو چکی تھی اور دو دہائیوں سے بھی کم عرصے میں اس کا نظام بکھر گیا۔
مگر اقوام متحدہ کے قیام کے وقت بھی طاقتور فاتح ممالک کی بالادستی واضح تھی۔ جن طاقتوں نے جنگ جیتی، انہوں نے تاریخ اور عالمی اداروں کے قوانین بھی اپنی ضروریات اور مفادات کے مطابق تشکیل دیے۔
جو چیز اس وقت شاید ایک عارضی انتظام کے طور پر قبول کی گئی تھی، وہ وقت گزرنے کے ساتھ ایک مستقل طاقت کے نظام میں تبدیل ہوگئی۔
دس سال گزرنے تھے، مگر 81 سال گزر گئے۔
وہ کانفرنس جس کے ذریعے اقوام متحدہ کے منشور کا جائزہ لیا جانا تھا، آج تک منعقد نہیں ہو سکی۔ اس دوران دنیا بدل گئی، طاقت کے مراکز تبدیل ہوگئے، نئے ممالک اور نئی طاقتیں عالمی منظرنامے پر ابھریں، مگر اقوام متحدہ کا بنیادی ڈھانچہ بڑی حد تک اپنی پرانی شکل میں موجود رہا۔
گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران پانچ مستقل ارکان نے ویٹو کے ذریعے اپنی طاقت برقرار رکھی۔ ان کے پاس یہ صلاحیت موجود رہی کہ سلامتی کونسل کی کارروائی کو روک سکیں، جبکہ دیگر ممالک کو مختلف حالات میں سخت اقتصادی اور دیگر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔
اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ وقت آ گیا ہے جب 81 سال سے زیرِ التوا اس معاملے کو دوبارہ اٹھایا جائے۔
2024 کی سمٹ آف دی فیوچر میں اقوام متحدہ میں اصلاحات کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کے بعد شق 109 کو فعال کرنے کے لیے ایک نیا اتحاد بھی سامنے آیا ہے۔ کئی ممالک اقوام متحدہ کے منشور میں اصلاحات کے لیے کوششیں تیز کر رہے ہیں۔
مئی اور جون کے دوران رومانیہ نے جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے ذریعے منشور میں تبدیلی سے متعلق شق کو فعال کرنے کی بات کی۔ بھارت نے بھی سلامتی کونسل میں منشور پر نظرثانی کا معاملہ اٹھایا۔
جرمنی نے بھی اس اقدام کو دلچسپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شق 109 سے متعلق اس تجویز پر غور کیا جانا چاہیے۔
قرغیزستان کے صدر نے اپنے سفارت کاروں سے کہا ہے کہ وہ ممکنہ ترامیم اور تجاویز کا جائزہ لیں اور ستمبر میں انہیں پیش کرنے کے لیے تیار رہیں۔
دوسری جانب برازیل، بھارت اور جنوبی افریقہ نے بھی مشترکہ طور پر شق 109 کے تحت منشور پر نظرثانی کے لیے ایک کانفرنس بلانے پر زور دیا ہے۔
لیکن اصل سوال اب بھی وہی ہے:
کیا ویٹو کا ہتھیار رکھنے والی پانچ بڑی طاقتیں اس تبدیلی کو قبول کریں گی؟
آخر یہ وہی اختیار ہے جو انہیں عالمی نظام میں غیر معمولی طاقت فراہم کرتا ہے۔ منشور میں ایسی تبدیلی جو ویٹو کے اختیار کو محدود یا ختم کرے، یقیناً ان ممالک کی موجودہ طاقت اور اثر و رسوخ کو متاثر کر سکتی ہے۔
اس کے باوجود اقوام متحدہ کے منشور میں تبدیلی صرف ایک قانونی معاملہ نہیں رہی۔ بہت سے ممالک اسے ایک فوری ضرورت سمجھتے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ عالمی طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے۔
ایک اہم مطالبہ سلامتی کونسل کو وسعت دینے کا ہے تاکہ ان درمیانی درجے کی طاقتوں کو بھی مناسب نمائندگی مل سکے جو آج عالمی سیاست میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
اسی طرح ویٹو کے حق میں بھی تبدیلی یا اسے ختم کرنے کا مطالبہ سامنے آ رہا ہے، تاکہ اقوام متحدہ کا نظام دنیا کے موجودہ طاقت کے توازن کی زیادہ بہتر عکاسی کر سکے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور میں ماضی میں تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔ 1963، 1965 اور 1973 میں ترامیم کے ذریعے سلامتی کونسل اور اقتصادی و سماجی کونسل کے ارکان کی تعداد میں اضافہ کیا گیا تھا۔
لیکن آج دنیا ایک بہت بڑے سوال کے سامنے کھڑی ہے۔
کیا اب وہ اصلاحات بھی ممکن ہوں گی جو اقوام متحدہ کے پورے نظام کو نئی شکل دے سکتی ہیں؟
کیا دنیا ایک ایسا مؤثر اور اجتماعی اقوام متحدہ چاہتی ہے جو عالمی طاقتوں کے درمیان کسی امتیاز کے بغیر زیادہ وسیع عالمی نمائندگی فراہم کرے؟
اور سب سے بڑھ کر:
کیا 81 سال بعد اقوام متحدہ کے منشور میں وہ تبدیلی ممکن ہو سکے گی جس کا مطالبہ دنیا کے کئی ممالک کر رہے ہیں؟
اب اس کا جواب آنے والے دنوں میں تلاش کرنا ہوگا۔
دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی وہ تبدیلی آتی ہے جس کا انتظار آٹھ دہائیوں سے جاری ہے۔



