وزن کم کرنے کے لیے حیوانی یا نباتاتی: کون سا پروٹین زیادہ بہترین ہے؟

راجہ نوید
جدید دور میں جب وزن کم کرنے اور صحت مند زندگی گزارنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، تو غذائی ماہرین کی تمام تر توجہ پروٹین کی اہمیت پر مرکوز ہو چکی ہے۔ پروٹین نہ صرف ہمارے جسمانی خلیات کی تعمیر و مرمت کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ وزن گھٹانے کے عمل میں بھی ایک بنیادی محرک کا کام کرتا ہے۔ تاہم، اکثر لوگ اس الجھن کا شکار رہتے ہیں کہ وزن کم کرنے کے لیے حیوانی پروٹین یعنی مرغی، مچھلی، انڈے اور گوشت زیادہ فائدے مند ہیں یا پھر نباتاتی پروٹین جیسے دالیں، چنے، لوبیا اور خشک میوہ جات۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں ذرائع اپنی جگہ الگ الگ خصوصیات اور فوائد رکھتے ہیں۔
حیوانی پروٹین کو طبی سائنس میں ایک مکمل پروٹین تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں وہ تمام ضروری امینو ایسڈز موجود ہوتے ہیں جنہیں ہمارا جسم خود سے تیار نہیں کر سکتا۔ جب کوئی شخص وزن کم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی کیلوریز میں کمی لاتا ہے، تو اس بات کا شدید خطرہ ہوتا ہے کہ چربی کے ساتھ ساتھ جسم کے عضلات یا مسلز بھی گھٹنے لگیں۔ ایسی صورت میں مرغی کا سینہ، مچھلی اور انڈے جیسے کم چربی والے حیوانی ذرائع مسلز کی حفاظت کرتے ہیں اور میٹابولزم کی رفتار کو سست ہونے سے بچاتے ہیں۔ مزید برآں، حیوانی پروٹین کو ہضم کرنے میں جسم کو زیادہ توانائی صرف کرنا پڑتی ہے، جس سے خود بخود اضافی کیلوریز جلتی ہیں۔
دوسری جانب، نباتاتی پروٹین وزن گھٹانے کے سفر میں ایک بالکل مختلف لیکن انتہائی مؤثر طریقہ کار اختیار کرتا ہے۔ دالوں، چنوں اور مختلف بیجوں میں پروٹین کے ساتھ ساتھ فائبر کی ایک بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ فائبر معدے میں جا کر پھولتا ہے اور ہاضمے کے عمل کو سست کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے انسان کو طویل عرصے تک بھوک کا احساس نہیں ہوتا اور وہ بار بار غیر ضروری کھانا کھانے سے بچ جاتا ہے۔ نباتاتی پروٹین کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں مضرِ صحت چربی اور کولیسٹرول نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، جو دل کی صحت اور بلڈ پریشر کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
صحت بخش طریقے سے وزن کم کرنے کا بہترین اصول یہ ہے کہ کسی ایک ذریعے پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے دونوں کا متوازن امتزاج تیار کیا جائے۔ اگر آپ صرف حیوانی پروٹین پر انحصار کریں گے تو جسم فائبر کی کمی اور قبض جیسے مسائل کا شکار ہو سکتا ہے، جبکہ صرف نباتاتی پروٹین سے تمام امینو ایسڈز کی یکساں فراہمی مشکل ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر روزمرہ کی غذا میں کم چربی والے حیوانی پروٹین کے ساتھ ساتھ فائبر سے بھرپور نباتاتی غذاؤں کو شامل رکھا جائے، تو نہ صرف وزن تیزی سے اور پائیدار طریقے سے کم ہوتا ہے بلکہ جسمانی توانائی اور شادابی بھی برقرار رہتی ہے۔



