ریاستی رٹ قائم کرتے کرتے شہریوں کی رٹ ختم نہ کریں، پہلے منتخب پارلیمنٹ بنائیں پھر چھوٹے صوبے، سعد رفیق

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ریاستی رٹ قائم کرنے کی کوشش میں شہریوں کے حقوق اور آواز ختم نہیں ہونی چاہیے، پہلے ایک حقیقی منتخب پارلیمنٹ بنائیں، پھر چھوٹے صوبے بنائیں۔

قومی پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گزشتہ حکومت لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے میں مصروف رہی، ہم ایک ایٹمی قوت ہیں اور یہ سمجھتے رہے کہ مخالف کو دبا کر راستہ بنا لیں گے، مگر اس طرزِ سیاست سے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ اپنے خون سے جمہوریت کی تاریخ رقم کرتے ہیں، وہ معاملات کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔ آج ہم ایسے چوراہے پر کھڑے ہیں جہاں آگے بڑھنے کا راستہ واضح دکھائی نہیں دے رہا۔

سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کئی مارشل لا اعلانیہ اور کئی غیر اعلانیہ لگے۔ ہر سیاسی جماعت ایک خاندان کی جاگیر بن چکی ہے، جب سیاسی جماعتیں خاندانوں کی ملکیت بن جائیں تو پھر جمہوریت کیسے مضبوط ہوگی؟

انہوں نے بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ووٹ کسی اور کو ملتا ہے اور منتخب کوئی اور ہوجاتا ہے۔ ریاستی رٹ قائم کرتے کرتے شہریوں کی رٹ ختم نہیں کرنی چاہیے۔

خواجہ سعد رفیق نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں آزاد کشمیر کی صورتحال بھی بلوچستان جیسی نہ بن جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایک منتخب پارلیمنٹ تشکیل دی جائے، اس کے بعد انتظامی اور صوبائی ڈھانچے میں تبدیلی پر بات ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت کو پارلیمانی آمریت میں تبدیل کرنا بند کرنا ہوگا۔ آئین کی پامالی کی صورتحال برقرار رہی تو جتنے مرضی چھوٹے صوبے بنا لیے جائیں، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

مزید خبریں

Back to top button