باغ کی صفائی کے دوران ایسا خزانہ مل گیا کہ دنیا دنگ رہ گئی، وائی کنگ عہد کا سب سے بڑا چاندی کا ذخیرہ دریافت!

کوپن ہیگن (جانو ڈاٹ پی کے) ذرا تصور کریں کہ آپ اپنے گھر کے باغ میں ایک بیزار کن کام کر رہے ہوں اور اچانک زمین کے اندر سے سیکڑوں سال پرانا قیمتی خزانہ نکل آئے! ڈنمارک میں ایک شخص کے ساتھ کچھ ایسا ہی حیران کن واقعہ پیش آیا، جہاں باغ کی صفائی کے دوران وائی کنگ عہد کا اب تک کا سب سے بڑا چاندی کا ذخیرہ دریافت ہوگیا۔
شمالی ڈنمارک کے علاقے Rebild میں ایک شخص اپنے گھر کے باغ میں نئے ٹیرس کی تعمیر کے لیے گھاس اور پتھروں کی صفائی کررہا تھا کہ کھدائی کے دوران اس کا ہاتھ کسی دھاتی چیز سے ٹکرا گیا۔
شروع میں اسے لگا کہ شاید کوئی پرانا لوہا یا باڑ کی تار زمین میں دبی ہوئی ہے، لیکن جب اس نے ہاتھ سے مزید کھدائی کی تو ایک کے بعد ایک چاندی کی اشیا، زیورات، سکے اور چاندی کی سلاخیں برآمد ہونے لگیں۔
دریافت کرنے والے شخص نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ کئی گھنٹوں سے باغ کی صفائی کررہا تھا اور یہ اس کی زندگی کا سب سے حیرت انگیز لمحہ ثابت ہوا۔
ڈنمارک کے ثقافتی ادارے نارتھ جٹ لینڈ میوزیمز کے مطابق دریافت ہونے والے خزانے میں تقریباً 700 اشیا شامل ہیں، جن میں ایک چھوٹا تھور ہیمر، بریسلیٹس، متعدد چاندی کی سلاخیں، چاندی کے کٹے ہوئے ٹکڑے اور 47 سکے شامل ہیں۔
اس خزانے کا مجموعی وزن تقریباً 18.5 کلوگرام ہے، جو اس سے قبل دریافت کیے گئے وائی کنگ دور کے ذخیرے سے تقریباً تین گنا زیادہ وزنی ہے۔
ماہرین کے مطابق خزانے کی تقریباً 320 اشیا لکڑی سے بنے ایک برتن میں محفوظ حالت میں ملیں، جس کا تعلق ممکنہ طور پر دسویں صدی عیسوی سے ہے، جبکہ دیگر اشیا مٹی کے اندر سے دریافت ہوئیں۔
چاندی صرف زیور نہیں، اس دور کی کرنسی بھی تھی
ماہرین کے مطابق وائی کنگ عہد میں چاندی سے بنی اشیا کو ادائیگی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور ان کی قدر کا تعین زیادہ تر وزن سے کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ چاندی کو ضرورت کے مطابق چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا یا پگھلایا بھی جاتا تھا۔
نئے دریافت ہونے والے خزانے میں چاندی کی سلاخوں کی بڑی تعداد اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ ممکنہ طور پر اسے دولت کے ذخیرے کے طور پر زمین میں چھپایا گیا تھا۔
ایک چاندی کی سلاخ پر ’’hutu‘‘ سے ملتا جلتا لفظ بھی کندہ ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ خزانے کے مالک کا نام یا کوئی مخصوص نشان ہوسکتا ہے۔
عرب اور انگلینڈ کے سکے، وائی کنگ دور کے حیران کن روابط
دریافت ہونے والے 47 سکوں میں عرب اور اینگلو سیکسن سکے بھی شامل ہیں، جو وائی کنگ عہد میں یورپ کے مختلف علاقوں میں گردش کرتے تھے۔
دو سکوں پر کنگ ایڈورڈ دی ایلڈر کا نام درج ہے، جو 899 سے 924 عیسوی تک انگلینڈ کے بادشاہ رہے۔
دوسری جانب عرب سکوں کو مخصوص انداز میں کاٹا گیا تھا اور ان پر ایسے الفاظ اور نقوش موجود ہیں جو نویں صدی میں اسلامی دنیا میں عام تھے۔
ماہرین کے مطابق یہ سکے اس دور کے ایک انتہائی دلچسپ پہلو کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرق میں اسلامی دنیا اور مغرب میں انگلینڈ و وائی کنگ دنیا کے درمیان تجارت اور روابط موجود تھے۔
ایک عام سے باغ کی صفائی کے دوران سامنے آنے والے اس تاریخی خزانے نے نہ صرف ڈنمارک بلکہ وائی کنگ دور کی معیشت، تجارت اور مشرق و مغرب کے قدیم تعلقات کے حوالے سے بھی ماہرین کے لیے تحقیق کا ایک نیا باب کھول دیا ہے۔



