سمال واہ کی زمین لارج واہ کے پانی سے آباد کرنے کا منصوبہ؟ آبادگار سراپا احتجاج، حق تلفی کا خدشہ

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ /پی کے)سمال واہ کی زمین شادِی واہ کے پانی سے آباد کرنا ناانصافی قرار شادِی لارج واہ سے مبینہ غیرقانونی واٹر کورس نکال کر 400 ایکڑ زمین آباد کرنے کی کوشش، 10 ہزار آبادگاروں کے حق تلفی کا خدشہ۔
تفصیل کے مطابق شادی لارج واہ کی ٹیل میں 10 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ آباد کرنے والے چھوٹے آبادگاروں نے نئے 80-R واٹر کورس کی مبینہ منظوری کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے محکمہ آبپاشی اور متعلقہ حکام سے معاملے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے آ بادگاروں کا الزام ہے کہ طویل عرصے سے شادی لارج واہ پر نان کمانڈ ایریا کی زمینوں کی منتقلی اور نئے واٹر کورسز کی منظوری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث ٹیل کے آبادگار پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شادی لارج واہ کی تعمیر تقریباً 1962ء میں مکمل ہونے کے بعد سے ہی ٹیل کے علاقے کو پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے آ بادگاروں کے مطابق حال ہی میں شادی سمال واہ کے کمانڈ ایریا سے 400 ایکڑ زمین شادی لارج واہ پر منتقل کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے خلاف احتجاج کے بعد یہ منتقلی عارضی طور پر روک دی گئی۔ آبادگاروں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل شادی سمال کے واٹر کورس نمبر 31-R سے متعلق تقریباً 80 ایکڑ زمین کو شادی لارچ واہ کے 58-L پر مبینہ طور پر منتقل کرنے اور واٹر کورس کا سائز بڑھانے کے خلاف بھی متعلقہ حکام کو درخواستیں دی گئی تھیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ حال ہی میں آر ڈی 143 کے مقام پر 80-R نامی نئے واٹر کورس کی منظوری دی گئی ہے، تاہم اس کے زمینی وجود اور نقشے میں اندراج کے حوالے سے سوالات موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ زمین کو پہلے ہی 181-R واٹر کورس سے پانی فراہم کیا جاتا رہا ہے اور اس حوالے سے پرانا ریکارڈ اور پانی کی شیئر لسٹ بھی موجود ہے ٹیل کے آبادگاروں کا مزید کہنا ہے کہ مجوزہ نیا واٹر کورس چھوٹے آبادگاروں کی زمینوں اور تقریباً 60 سال پرانے عوامی راستے سے گزارنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے متعدد دیہات کے رہائشیوں کی آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ ہے آ بادگاروں نے بتایا کہ تقریباً چار ماہ قبل 80-R واٹر کورس کے معاملے پر سیکڑوں آبادگاروں، ہاریوں اور علاقہ مکینوں کا گرینڈ اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں مجوزہ واٹر کورس کو مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بعد سیڈا اور محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام کو بھی درخواستیں دی گئیں رئیس عطااللہ خان بروہی، رئیس غلام نبی بروہی، سردار عبدالشکور لہڑی، میر نبی بخش جتوئی رئیس سعداللہ خان لہڑی وڈیرو محمد یوسف بھوت حاجی سائیں داد بروہی اور دیگر آبادگاروں نے کہا کہ اگر زبردستی نیا واٹر کورس نکالنے کی کوشش کی گئی تو شدید مزاحمت کا خدشہ ہے انہوں نے ڈویژنل کمشنر حیدرآباد، ڈپٹی کمشنر بدین، محکمہ آبپاشی اور سیڈا کے حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں زمینی ریکارڈ اور واٹر کورسز کے نقشوں کی تصدیق کی جائے اور اگر مجوزہ واٹر کورس غیرقانونی یا قواعد کے خلاف ثابت ہو تو اسے فوری طور پر منسوخ کیا جائے آ بادگاروں نے ایس ایس پی بدین بھی مطالبہ کیا کہ کسی بھی مبینہ غیرقانونی واٹر کورس کے لیے پولیس فورس فراہم نہ کی جائے اور انتظامیہ قانون اور زمینی ریکارڈ کے مطابق فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ شادی لارچ واہ کی ٹیل کا پانی ہزاروں خاندانوں کے روزگار اور بقا سے وابستہ ہے، اس لیے کسی ایک فریق کے مفاد کی خاطر ٹیل کے آبادگاروں کے پانی، زمین اور عوامی راستوں کے حقوق متاثر نہ کیے جائیں



