نوشکی میں 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی اور تشدد کے بعد قتل، 3 نامزد ملزمان گرفتار

کوئٹہ (جانوڈاٹ پی کے) بلوچستان کے ضلع نوشکی میں 8 سالہ بچی کو مبینہ زیادتی اور تشدد کے بعد قتل کیے جانے کے افسوسناک واقعے پر وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی، جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نامزد تینوں ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
پولیس حکام کے مطابق نوشکی کے علاقے احمد وال میں پیش آنے والے واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا ہے۔ اہل خانہ کی جانب سے مقدمہ درج کرا کے ملزمان کی فوری گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر بچی کو زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا اور لاش دفنا دی گئی تھی۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر قانونی کارروائی کے لیے لاش کو قبر سے نکال کر پوسٹ مارٹم کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔
وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی نوشکی اور ڈی آئی جی رخشان ڈویژن سے رپورٹ طلب کرلی۔ معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی کے مطابق وزیر داخلہ نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کارروائی کی ہدایت کی۔
دوسری جانب ایس پی نوشکی سلیم شاہوانی کے مطابق پولیس نے بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے مقدمے میں نامزد تینوں ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار ملزمان میں عصمت اللہ، زبیر اور کامران شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی کی جارہی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد واقعے سے متعلق مزید حقائق واضح ہونے کی توقع ہے۔



