ٹرمپ امریکی تاریخ کے کرپٹ ترین صدر ہیں،ایران جنگ سے تیل کمپنیوں کو فائدہ ہو رہا ہے،امریکی سینیٹرالزبتھ وارن

واشنگٹن (جانو ڈاٹ پی کے) امریکی سیاست میں ایک بار پھر تہلکہ مچ گیا، ڈیموکریٹ سینیٹر الزبتھ وارن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں امریکی تاریخ کا ’’سب سے کرپٹ صدر‘‘ قرار دے دیا۔

الزبتھ وارن نے میساچوسٹس میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں اور مارکیٹ میں پیدا ہونے والی صورتحال سے ٹرمپ کے قریب سمجھی جانے والی بڑی تیل کمپنیوں کو غیر معمولی مالی فائدہ پہنچ رہا ہے۔

سینیٹر وارن کے مطابق ٹرمپ کے قریبی سمجھے جانے والے بعض تیل کاروباری افراد نے ان کی انتخابی مہم کے لیے بڑی رقوم عطیہ کیں، جبکہ اب ایران کے ساتھ جنگ کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں پیدا ہونے والی صورتحال سے ان کمپنیوں کو فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔

وارن نے سوال اٹھایا کہ اگر جنگ کے نتیجے میں امریکی عوام کو مہنگے ایندھن اور دیگر معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو پھر اس صورتحال میں سب سے زیادہ فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔

امریکی سینیٹر کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف یہ تازہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ امریکی حکام کی ایران سے متعلق اقتصادی اور جنگی پالیسیوں نے تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور شپنگ کے اخراجات پر بھی دباؤ بڑھایا ہے۔

ٹرمپ کی مالی اور کاروباری سرگرمیاں بھی حالیہ مہینوں میں امریکی سیاسی بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہیں۔ امریکی ڈیموکریٹس اور اخلاقی امور کے ماہرین صدر کے کاروباری مفادات اور صدارتی پالیسیوں کے ممکنہ ٹکراؤ پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔

الزبتھ وارن اس سے قبل بھی ایران جنگ کے امریکی خاندانوں پر بڑھتے ہوئے اخراجات کے اثرات پر ٹرمپ انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنا چکی ہیں اور خبردار کرچکی ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں ایندھن سمیت بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ امریکی عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔

تاہم تیل کمپنیوں کے غیر معمولی منافع اور ٹرمپ سے ان کے مبینہ مالی روابط سے متعلق الزبتھ وارن کے الزامات کو ان کا سیاسی مؤقف اور الزام سمجھا جانا چاہیے؛ ان تمام دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق الگ معاملہ ہے۔

امریکی سیاست میں اس بیان کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی، تیل کی قیمتوں میں اضافے اور صدر کے کاروباری مفادات کے درمیان ممکنہ تعلق ایک بار پھر شدید سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button