سیلاب نے مچائی تباہی، رہائشی علاقے میں اژدہے کی انٹری نے لوگوں کے اوسان خطا کردیئے

کٹھمنڈو (جانو ڈاٹ پی کے) نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں سے خوفناک اور حیران کن مناظر سامنے آنے لگے، جہاں سیلابی پانی میں ایک بڑے اژدہے (پائتھن) کو رہائشی علاقے کے درمیان گھومتے ہوئے دیکھا گیا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ رہائشی علاقے میں پانی جمع ہے جبکہ ایک بڑا سانپ پانی کے اندر حرکت کرتے ہوئے گھروں اور دیگر املاک کے قریب سے گزر رہا ہے۔ اس غیر معمولی منظر نے متاثرہ آبادی میں خوف و ہراس پیدا کردیا۔

نیپال کے مختلف علاقوں میں حالیہ شدید سیلاب اور اچانک آنے والے ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ حکام کے مطابق 26 اگست کو راسووا سمیت وسطی نیپال کے کئی اضلاع میں شدید فلیش فلڈنگ ہوئی، جس سے دریاؤں کے اطراف آبادیاں، سڑکیں، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا۔

سیلاب کے باعث کئی رہائشی علاقوں میں پانی اور کیچڑ داخل ہوگیا جبکہ متعدد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔ نیپالی حکام نے خطرناک اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت بھی کی ہے۔

ایسے حالات میں جنگلی جانوروں اور رینگنے والے جانوروں کا اپنے قدرتی مسکن سے نکل کر انسانی آبادیوں کی طرف آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ شدید سیلاب ان کے رہنے کی جگہوں کو بھی زیر آب لے آتا ہے۔ تاہم رہائشی علاقے میں اتنے بڑے پائتھن کی موجودگی نے مقامی افراد کو خاص طور پر خوفزدہ کردیا۔

دوسری جانب نیپال میں سیلاب کے باعث امدادی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق راسووا، نواکوٹ، دھادنگ، چتوان اور دیگر اضلاع میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے، جبکہ صحت اور امدادی ادارے متاثرہ آبادی کو ضروری طبی امداد اور دیگر سہولیات فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔

حالیہ تباہ کن سیلاب نے نیپال میں انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ ماحول اور جنگلی حیات کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ سیلابی پانی کے اندر اژدہے کی ویڈیو نے اس قدرتی آفت کے ایک ایسے پہلو کو نمایاں کردیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تباہی صرف انسانوں کے گھروں تک محدود نہیں رہی بلکہ جنگلی حیات بھی اپنے مسکن سے بے گھر ہونے پر مجبور ہے۔

نوٹ: اژدہے کی مخصوص ویڈیو کے مقام، وقت اور نوع کے بارے میں دستیاب معتبر ذرائع سے آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، اس لیے خبر میں ویڈیو کے دعوے کو اسی احتیاط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button