غزہ کی لاشوں پر سجا جھوٹ کا ڈیجیٹل محل: دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتےاسرائیل کے جعلی تحقیقی ادارے کا پردہ فاش!

تحریر:نہال معظم
دنیا گواہ ہے کہ فاتحین نے ہمیشہ اپنے قلم سے تاریخ کے دھارے کو اپنی مرضی کے مطابق موڑا ہے، سنہری حروف سے اپنے گناہوں پر ملمع کاری کی ہے اور مظلوم کی چیخوں کو جیت کے ترانوں میں بدل ڈالا ہے؛ لیکن اکیسویں صدی کے اس ڈیجیٹل زمانے میں تو معاملہ اس سے بھی دو ہاتھ آگے نکل چکا ہے۔اب تاریخ کو بعد میں مسخ کرنے کی زحمت ہی نہیں کی جاتی بلکہ سرعام، آنکھوں میں دھول جھونک کر، عین اسی لمحے جھوٹ کی نئی تاریخ تخلیق کر دی جاتی ہے جب سب دنیا کے بالکل سامنے ہوتا ہے۔
امریکی وزارتِ انصاف کے سامنے حال ہی میں ایسی سنسنی خیز فائلیں کھلیں کہ دنیا دنگ رہ گئی کہ کس طرح اسرائیل نے Hanover Institute for Public Policy کے نام سے ایک ایسا فرضی تحقیقی مرکز کھڑا کر رکھا ہے جس کا حقیقت میں نہ کوئی وجود ہے، نہ دفتر اور نہ ہی کوئی عملہ، لیکن اس کے باوجود اس نے محض نو دنوں میں 56 لاکھ سے زائد الفاظ پر مشتمل 124 ایسی طویل رپورٹس انٹرنیٹ کے سپرد کر دیں جن کا مقصد صرف یہ تھا کہ مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس جب غزہ میں جاری خون ریزی، قیدیوں پر تشدد یا بھوک کے بحران کے بارے میں سچ تلاش کریں، تو یہ ڈیجیٹل بھوت فوراً سامنے آ کر ایسی من گھڑت اور نیم سائنسی تصدیقیں پیش کرے جو ظالم کو مسیحا بنا کر دکھائیں۔
اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ اس جنگ میں ایک طرف غزہ کے مکینوں کے جسموں کے ٹکڑے بکھرے پڑے ہیں، بچوں کی لاشیں انسانیت کو شرما رہی ہیں اور اسپتال ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، تو دوسری طرف واشنگتن سے لے کر تل ابیب تک کروڑوں ڈالر کے فنڈز سے یہ گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا ہے کہ کسی طرح عالمی ضمیر کو خرید لیا جائے۔ یورپی اشتہاری گروپوں کے توسط سے چلنے والی اس مہم کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ دنیا بھر کے سرچ انجنز اور چیٹ سسٹمز کو یہ باور کرایا جائے کہ اسرائیل کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز اور جنگی جرائم کی ہر رپورٹ محض ایک پروپیگنڈا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ایک سائنسی و تحقیقی سچائی پر مبنی ہے۔
حیرت کی انتہا تو یہ ہے کہ خود اسرائیلی حکام اب اندرونی طور پر یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ اتنی بڑی ڈیجیٹل بدماشی کے باوجود امریکی عوام کے دل نہیں جیتے جا سکے، اور حال ہی میں سامنے آنے والے تمام عوامی سروے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ اکثریت کا جھکاؤ صیہونی بیانیے کے بالکل الٹ فلسطینیوں کے حقوق اور مظلومیت کی طرف ہے۔ سڑکوں پر بہنے والے خون، ماں کی گود میں دم توڑتے بچوں کی آہوں اور لاشوں کے انبار کے سامنے یہ فرضی کاغذ کے پھول پلک جھپکتے ہی راکھ ہو چکے ہیں۔
یہ تاریخ کا وہ تاریک ترین صفحہ ہے جہاں غزہ کی لاشوں کی بنیاد پر جھوٹ کا محل کھڑا کیا جاتا ہے اور اسے سچ کا لباس پہنانے کے لیے باقاعدہ فیکٹریوں کی طرح جعلی ادارے چلائے جاتے ہیں، مگر دنیا جانتی ہے کہ ڈیجیٹل کوڈز اور مصنوعی ذہانت کے کتنے ہی پہرے بٹھا دیے جائیں، ضمیر کی عدالت میں خون کی سرخی کو مٹانا کسی الگورتھم کے بس کی بات نہیں ہوتی۔



