بلڈ پریشر کس بازو سے چیک کریں؟بائیں یا دائیں، جانیے اہم طبی اصول!

راجہ نوید
گھر ہو یا کلینک، بلڈ پریشر (Blood Pressure) چیک کرتے وقت اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ الجھن ہوتی ہے کہ بی پی کس بازو سے چیک کرنا زیادہ بہتر ہے؛ بائیں بازو سے یا دائیں بازو سے؟ اگر دونوں بازوؤں کی ریڈنگ میں فرق آجائے تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ طبی ماہرین کے مطابق اس حوالے سے چند اہم اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔
پہلی بار بی پی چیک کرنے کا طریقہ
جب آپ زندگی میں پہلی بار یا کسی نئے مقام پر باقاعدگی سے بی پی کی جانچ شروع کریں، تو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ دونوں بازوؤں میں پیمائش ریکارڈ کی جائے۔ دونوں بازوؤں کی ریڈنگ میں ہلکا سا فرق ہونا ایک عام سی بات ہے۔
بڑے فرق پر نظر رکھنا کیوں ضروری ہے؟
اگر دونوں بازوؤں کے درمیان اوپر والے نمبر یعنی سسٹولک بی پی (Systolic BP) میں 10 سے 15 mmHg سے زیادہ کا نمایاں فرق نظر آئے، تو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پیمائش دوبارہ کی جانی چاہیے۔
طبی مشورہ کب حاصل کریں؟
اگر دونوں بازوؤں کی بی پی ریڈنگ میں مسلسل ایک بڑا فرق برقرار رہے، تو یہ خون کی نالیوں میں کسی رکاوٹ یا دیگر طبی مسائل کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں فوری طور پر کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
بعد کے ٹیسٹوں کے لیے درست طریقہ
مستقبل میں جب بھی باقاعدگی سے بی پی چیک کیا جائے، تو اس کا صحیح طریقہ کار یہ ہے کہ صرف اسی بازو پر بی پی ناپا جائے جس کی ریڈنگ پہلے زیادہ آئی ہو۔
بلڈ پریشر کی سطح اور ان کے معنی
عمومی سطح: 120/80 mmHg سے کم
بلند بی پی: 120–129/<80 mmHg (اس مرحلے پر طرز زندگی اور خوراک و ورزش پر توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے)
اسٹیج 1 ہائی بلڈ پریشر: 130–139/80–89 mmHg (طبی تشخیص اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اقدامات درکار ہیں)
اسٹیج 2 ہائی بلڈ پریشر: 140/90 mmHg یا اس سے زیادہ (ادویات اور طرز زندگی میں تبدیلی دونوں لازمی ہیں)
ہائی بلڈ پریشر کا بحران: 180/120 mmHg سے زیادہ (یہ ایک انتہائی خطرناک حالت ہے جس میں فوری ہنگامی طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے)
چونکہ ہائی بلڈ پریشر کی ہمیشہ واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں، اس لیے کسی بڑی علامت کا انتظار کرنے کے بجائے باقاعدگی سے اپنا بلڈ پریشر چیک کرنا صحت کے سنگین اثرات سے بچنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔



