عیسائی شہری نے قرآنی مقابلے میں حصہ لیا، عمرہ کا انعام جیت کر مسلمان پڑوسن کو دے دیا

قاہرہ (جانو ڈاٹ پی کے) مصر میں مذہبی ہم آہنگی اور انسانیت کی ایک ایسی مثال سامنے آئی ہے جس نے سوشل میڈیا پر لوگوں کے دل جیت لیے! ایک عیسائی شہری نے قرآنی علوم کے مقابلے میں حصہ لے کر مفت عمرہ کا انعام جیتا اور یہ انعام اپنی مسلمان پڑوسن کی دیرینہ خواہش پوری کرنے کے لیے وقف کردیا۔
مینا نامی عیسائی شہری نے بتایا کہ وہ اسلامی مبلغ ڈاکٹر ایمن ابو عمر کی میزبانی میں ہونے والی سوشل میڈیا لائیو اسٹریم دیکھ رہا تھا، جہاں اس کی مسلمان پڑوسن، جسے ام علی کے نام سے جانا جاتا ہے، عمرہ جیتنے کی امید میں قرآنی مقابلے میں حصہ لے رہی تھیں۔
مینا کو جب معلوم ہوا کہ ام علی کی عمرہ ادا کرنے کی خواہش برسوں پرانی ہے تو اس نے ایک ایسا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا جس نے سب کو حیران کردیا۔ اس نے خود بھی مقابلے میں شرکت کی تاکہ اگر ام علی کامیاب نہ ہوسکیں تو شاید وہ ان کی طرف سے عمرہ کا انعام جیت سکے۔
مینا کے مطابق، "میں عیسائی ہوں، لیکن میں نے اس اسلامی مذہبی مقابلے میں صرف اس مقصد کے لیے حصہ لیا کہ اپنی پڑوسن کے لیے عمرہ کا انعام جیت سکوں۔”
مینا نے ام علی کو یقین دلایا کہ وہ ان کے ساتھ مقابلے میں حصہ لے گا اور اگر وہ کامیاب نہ ہوئیں تو بھی انعام حاصل کرنے کا ایک موقع موجود رہے گا۔
اس مقصد کے لیے مینا نے ہار ماننے کے بجائے مسلسل کوشش جاری رکھی اور مبینہ طور پر 50 سے 60 مرتبہ درست جوابات جمع کرائے۔ بالآخر قسمت نے اس کا ساتھ دیا اور وہ مفت عمرہ کا انعام جیتنے میں کامیاب ہوگیا۔
لیکن اصل حیرت اس وقت ہوئی جب مینا نے انعام اپنے لیے رکھنے کے بجائے اسے اپنی مسلمان پڑوسن ام علی کے لیے قرار دے دیا۔
ام علی نے بتایا کہ عمرہ ادا کرنا ان کی دیرینہ خواہش تھی اور وہ اس کے لیے دعا کرتی رہی تھیں۔ مینا کی جانب سے ان کی خواہش پوری کرنے کی کوشش نے اس واقعے کو محض ایک مقابلے کی جیت کے بجائے انسانیت، پڑوسیوں کے احترام اور مذہبی ہم آہنگی کی خوبصورت مثال بنا دیا۔
مینا نے عمرہ نہیں جیتا، بلکہ ایک دل جیت لیا—اور اپنی پڑوسن کی برسوں پرانی دعا کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ بن گیا!



