لاہور ہائیکورٹ نے 6 کلو چرس کیس میں 14 سال قید پانے والا ملزم بری کردیا

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے 6 کلو چرس برآمدگی کیس میں 14 سال قید کی سزا پانے والے ملزم ذوالفقار علی کو بری کردیا۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے ذوالفقار علی کی فوجداری اپیل منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی 14 سال قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔ ملزم پہلے ہی تقریباً 3 سال قید کاٹ چکا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ سیل شدہ منشیات محض عدالت میں پیش کردینا کافی نہیں، بلکہ دورانِ سماعت پارسل کھول کر گواہوں سے اس کی شناخت کرانا بھی ضروری ہے۔ منشیات کی محفوظ تحویل اور منتقلی کا مکمل سلسلہ ثابت کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہے۔
فیصلے کے مطابق پولیس برآمد شدہ منشیات کی محفوظ منتقلی کا مکمل ریکارڈ عدالت میں پیش نہ کرسکی۔ منشیات کے نمونے فرانزک ایجنسی بھجوانے کا روڈ سرٹیفکیٹ بھی پیش نہیں کیا گیا جبکہ رجسٹر نمبر 19 کی متعلقہ انٹری بھی عدالت کے سامنے نہیں لائی گئی۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ منشیات کی محفوظ تحویل اور اس کے مسلسل سلسلے کو ثابت نہ کیے جانے سے مقدمہ مشکوک ہوگیا۔ عدالت نے چرس کی شکل کے حوالے سے گواہوں کے بیانات میں تضاد کو بھی اہم قرار دیا۔
فیصلے میں بتایا گیا کہ ایک گواہ نے چرس کے ٹکڑوں کو چوکور جبکہ دوسرے نے انہیں گول قرار دیا۔ عدالت کے مطابق اگر سیل شدہ پارسل کھول کر گواہوں سے منشیات کی شناخت کرائی جاتی تو اس تضاد کی وضاحت ہوسکتی تھی۔
عدالت نے واضح کیا کہ صرف کیمیائی رپورٹ کی بنیاد پر سزا نہیں دی جاسکتی۔ استغاثہ ملزم کے خلاف مقدمہ شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا جبکہ مادی ثبوت کی شناخت اور اس کی محفوظ تحویل کے قانونی تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے۔
لاہور ہائیکورٹ نے ذوالفقار علی کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا اور ہدایت کی کہ اگر وہ کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں تو اسے فوری طور پر رہا کردیا جائے۔



