قیدیوں کو نجی ہسپتال منتقل کرنے اور بیرونِ ملک فون کال کی اجازت کا کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین عام قیدیوں کو نجی ہسپتال منتقل کرنے اور بیرونِ ملک موجود اہلخانہ سے ٹیلی فونک گفتگو کی اجازت دینے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس محمد آصف نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کے وکلاء، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا۔
دوران سماعت دونوں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز نے قیدیوں کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کی درخواستوں کی مخالفت کی۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے مؤقف اختیار کیا کہ قیدیوں کے علاج سے متعلق موجودہ قوانین اور جیل مینوئل کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔
جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی قیدی کو بیماری لاحق ہوجائے تو کیا کیا جائے گا؟ قیدی کی بیماری سے نہیں کھیلا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی سوال کیا کہ اگر کسی قیدی کا پاکستان میں کوئی اہلخانہ موجود نہ ہو تو کیا اسے بیرونِ ملک موجود خاندان سے بھی فون پر بات نہیں کروائی جائے گی؟
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ قانون میں جو طریقہ درج ہے اسی پر عمل کیا جائے گا، جبکہ عدالت نے استفسار کیا کہ قانون میں کہاں لکھا ہے کہ قیدی کو بیرونِ ملک موجود خاندان سے بات نہیں کروائی جا سکتی۔
جسٹس محمد آصف نے مزید سوال کیا کہ اگر کسی قیدی کے لیے کراچی سے کوئی ماہر ڈاکٹر بلوانا ہو تو کیا ہوگا؟ اگر کوئی قیدی آخری اسٹیج پر ہو تو کیا اس وقت بھی صرف قانون دیکھا جائے گا؟ سزائے موت کے قیدی کی آخری خواہش کے حوالے سے بھی عدالت نے اہم سوالات اٹھائے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے کہا کہ حکومت کا مؤقف یہ نہیں کہ قیدی کا علاج نہیں ہونا چاہیے۔ جیل میں موجود شخص کے بھی بنیادی حقوق ہیں، آئین کے آرٹیکل 9، 14 اور 25 زندگی، تحفظ اور برابری کی ضمانت دیتے ہیں۔ جیل رولز کے چیپٹر 32 میں بیمار قیدیوں کے علاج کا مکمل طریقہ کار موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیکل افسر قیدیوں کا معائنہ کرکے سفارشات دیتے ہیں اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ میں بھی میڈیکل افسر کی رائے موجود ہے۔ ان کے مطابق نہ سپرنٹنڈنٹ اور نہ ہی میڈیکل افسر نے یہ رپورٹ دی کہ قیدیوں کا علاج پمز میں ممکن نہیں۔
جسٹس محمد آصف نے پمز ہسپتال کی صورتحال پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ خود دیکھ لیں پمز کی حالت کیا ہوچکی ہے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور پنجاب کو پمز کا دورہ کرنے کی ہدایت بھی کی۔
سماعت کے دوران اس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی جب ایک باوردی اہلکار کمرہ عدالت میں پہنچ گیا۔ جسٹس محمد آصف نے اہلکار سے استفسار کیا کہ وہ کس کیس میں آیا ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ وہ ایک قیدی کے کیس میں متاثرہ فریق ہے اور متفرق درخواست کے ذریعے فریق بننا چاہتا ہے، جس پر عدالت نے اسے بیٹھنے کی ہدایت کردی۔
عدالت نے تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔



