قتل کیس میں غیر معمولی تاخیر، لاہور ہائیکورٹ نے ملزم کی ضمانت منظور کرلی

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)لاہور ہائیکورٹ نے قتل کیس کے ایک ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سنگین جرم کا الزام اپنی جگہ، لیکن ٹرائل میں غیر معمولی تاخیر کی وجوہات کا جائزہ لینا بھی عدالت کی ذمہ داری ہے۔

جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے محمد فاضل کی درخواست ضمانت پر 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر کوئی ملزم دو سال سے زائد عرصے سے حراست میں ہو، ٹرائل مکمل نہ ہوا ہو اور تاخیر کا ذمہ دار خود ملزم نہ ہو تو قانون کے تحت اسے ضمانت کا حق حاصل ہوسکتا ہے۔

فیصلے کے مطابق محمد فاضل کے خلاف تھانہ صدر ڈیرہ غازی خان میں 17 اپریل 2015 کو محمد ریاض کے قتل اور دیگر افراد کو زخمی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں محمد فاضل سمیت 15 ملزمان نامزد تھے۔

محمد فاضل کو 2 جنوری 2024 کو گرفتار کیا گیا، پولیس نے 7 مئی 2024 کو چالان پیش کیا جبکہ 24 جون 2024 کو ملزم پر فرد جرم عائد کی گئی۔ اس کے بعد مقدمہ گواہوں کے بیانات کے لیے مقرر ہوتا رہا، تاہم تقریباً دو سال سات ماہ گزرنے کے باوجود ایک بھی استغاثہ گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا۔

جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے قرار دیا کہ ریکارڈ کے مطابق مقدمے میں تاخیر زیادہ تر استغاثہ اور شکایت کنندہ کی جانب سے ہوئی۔ بعض مواقع پر جج کی عدم دستیابی، ملزم کو جیل سے پیش نہ کیے جانے اور فریقین کی درخواستوں کے باعث سماعت ملتوی ہوئی، تاہم ملزم کی جانب سے زیادہ تر تاریخوں پر التوا نہیں مانگا گیا۔

عدالت نے کہا کہ ایسے مقدمے میں جس میں سزائے موت کا امکان ہو، اگر ملزم کی حراست کے دو سال کے اندر ٹرائل مکمل نہ ہو اور تاخیر ملزم کی وجہ سے نہ ہوئی ہو تو مخصوص قانونی شرائط پوری ہونے کی صورت میں اسے ضمانت کا قانونی حق حاصل ہوسکتا ہے۔

فیصلے میں واضح کیا گیا کہ اگر ٹرائل میں تاخیر خود ملزم یا اس کی جانب سے کسی شخص کے باعث ہوئی ہو تو اسے اس قانونی رعایت کا فائدہ نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم موجودہ کیس میں ایسا کوئی مواد ریکارڈ پر موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ ٹرائل میں تاخیر محمد فاضل کی وجہ سے ہوئی۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل محمد عبد الودود نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم طویل عرصے تک قانون کی گرفت سے باہر رہا، اس لیے اس کی مفروری کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری وکیل کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ محض سابقہ مفروری کی بنیاد پر ملزم کو ضمانت کے قانونی حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا، خصوصاً جب ٹرائل میں تاخیر ملزم کی وجہ سے نہ ہوئی ہو۔

عدالت نے درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے محمد فاضل کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں اور اتنی ہی مالیت کے دو ضامنوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید خبریں

Back to top button