پاتال کے کنارے

عربی سے ترجمہ
تحریر: مشاری الذایدی
(مشاری معروف سعودی صحافی، کالم نگار اور مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی امور کے ماہرہیں۔انہیں مکہ میں سعودی نیشنل ڈائیلاگ کے رکن کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ انہوں نے متعدد عرب سیمیناروں میں مقالے پیش کیے)
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ایرانی انقلاب کی قیادت کے پاس مذاکرات کی طویل تاریخ میں ایک خاص تزویراتی مہارت حاصل ہے، جسے "پاتال کے کنارے پر کھیلنے کی حکمتِ عملی” کہا جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تباہ کن کھائی کی آخری چٹان کے بالکل کنارے پر جا کر ایک ٹانگ پر کھڑے ہو جانا اور اس انتظار میں رہنا کہ سامنے موجود حریف ڈر کر پیچھے ہٹ جائے ورنہ متبادل یہی ہے کہ دونوں ہی اتنی بلندی سے نیچے جا گریں۔
کیا یہ بات سچ ہے؟ شاید… لیکن اس سب کا مقصد کیا ہے؟ مقصد یہ ہے کہ اپنے نظام کو پیچھے ہٹنے سے محفوظ رکھا جائے اور حریف کو اپنے اس "عقل مندی سے سنبھالے گئے پاگل پن” سے خوفزدہ کیا جائے۔
یہ بھی ممکن ہے… لیکن آخر میں ایک ایسا اعلیٰ و ارفع مقصد ضرور ہوتا ہے جس کی حفاظت کے لیے یہ تمام تر مشق کی جاتی ہے۔ تو وہ اعلیٰ مقصد آخر ہے کیا؟ نظام کی بقا، اس کے نظریے کی بقا، یا خود ان کے رہنماؤں کی بقا؟
آخری جواب تو بالکل درست نہیں ہے، کیونکہ یہ نظام اپنے بڑے سے بڑے رہنماؤں کی موت کے بعد بھی قائم رہا ہے، جس کی تازہ ترین مثال سپریم لیڈر خامنہ ای کی اپنی شہادت ہے۔
پہلا جواب یعنی نظام کی بقا ممکن تو ہے، لیکن حتمی نہیں۔ کیونکہ ان کا طرزِ عمل ایسا ہے جیسے وہ اپنے بنیادی نظریے کو بچانے کی خاطر پورے نظام کو بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ تو پھر وہ بنیادی نظریہ کیا ہے؟
کچھ عرصے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی رہنماؤں کو "سرپھرا” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان کی سوچ کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
لیکن امریکی کاروباری ذہنیت کے مالک اس نفع بخش سوچ رکھنے والے رہنما سے جو بات چھوٹ گئی، وہ یہ ہے کہ دنیا میں کچھ حکومتوں اور سیاسی گروہوں کو چلانے والے محرکات، عام عملی یا کاروباری مفادات سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ فکری سختی اور انغلاق پاگل پن سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ ایسا شخص دنیا کو صرف اپنی مخصوص عینک سے دیکھتا ہے، ویسے نہیں جیسے باقی دنیا دیکھتی ہے۔
ایسی صورتِ حال میں اس شخص سے دنیاوی منطق یا نفع و نقصان کے حساب سے بات کرنا بے سود ہو جاتا ہے، کیونکہ نفع و نقصان کے حوالے سے اس کے اپنے پیمانے ہوتے ہیں جو اس کے نظریے پر مبنی ہوتے ہیں۔ جب نئے المرشد الغائب مجتبیٰ نے اپنے والد علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اپنا پہلا پیغام جاری کیا، تو ان کا پہلا جملہ ہی عقائدی بنیادوں پر مبنی تھا۔
اس کی اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں جن کا احاطہ یہاں ممکن نہیں۔ یہ عقائدی بنیاد پر سوچنا صرف ایرانی رہنماؤں تک محدود نہیں، بلکہ اہل سنت کے متشدد گروہوں، اور حتیٰ کہ عیسائی و یہودی دنیا میں "غائبانہ ظہور کے منتظر” گروہوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن ہماری بات کا محور صرف ایران کے موجودہ فیصلہ سازوں کی اس ضد اور سختی کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔
حتیٰ کہ جب امریکا کی طرف سے سخت ترین عالمی معاشی جنگ کا آغاز بالکل قریب ہے… تب بھی یہ رویہ برقرار ہے۔
کیا یہ پاگل پن ہے؟ اس کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کس مقام پر کھڑے ہیں اور دنیا کو کس کی عینک سے دیکھ رہے ہیں۔



