16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے قانون سازی اور عمر کی مؤثر تصدیق کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔
درخواست گزار نے وکلا محمد جلال حیدر اور یحییٰ فرید خواجہ ایڈووکیٹ کے ذریعے عدالت سے استدعا کی ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے کے حوالے سے مؤثر عمر کی تصدیق کا نظام وضع کیا جائے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بچوں کو سوشل میڈیا کے مضر اثرات، سائبر بُلنگ، آن لائن ہراسگی اور نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے۔
درخواست گزار نے مختلف ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق قوانین اور اقدامات کو بھی عدالت کے سامنے تقابلی مثالوں کے طور پر پیش کیا ہے۔
درخواست میں بتایا گیا کہ آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے قانون کو بطور مثال پیش کیا گیا، جبکہ فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لیے والدین کی رضامندی سے متعلق قانون سازی کا حوالہ دیا گیا ہے۔
برطانیہ کے Online Safety Act 2023 کے تحت بچوں کے آن لائن تحفظ کے اقدامات جبکہ نیوزی لینڈ اور اسپین میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق مجوزہ قانون سازی کا بھی ذکر کیا گیا۔
درخواست میں وزارت آئی ٹی، وزارت اطلاعات، وزارت داخلہ، وزارت قانون، پی ٹی اے اور پیمرا کو فریق بنایا گیا ہے۔
عدالت سے بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے خصوصی سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری میکنزم قائم کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو عمر کی حد اور حفاظتی اقدامات سے مشروط کر رہے ہیں، لہٰذا پاکستان میں بھی بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے۔



