وزیراعظم آزادی پریڈ مییں اعلیٰ انتظامی افسروں کی وائسرائے انداز میں نمائش پر برہم، آئندہ احتیاط کی ہدایت

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے\ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے یومِ آزادی کی پریڈ کے دوران دارالحکومت کے اعلیٰ انتظامی افسران کی جانب سے نمائش، شان و شوکت اور ذاتی تشہیر کے مظاہرے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہدایت کی ہے کہ آئندہ اس طرح کے طرزِ عمل کا اعادہ نہ ہو۔
ایک باقاعدہ مراسلے میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جوائنٹ سیکریٹری (ڈسپلن) سیدہ شفق ہاشمی نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس سید علی ناصر رضوی اور چیف کمشنر سہیل اشرف کو وزیراعظم کی ناراضی سے آگاہ کیا، یہ ناراضی 14 اگست کی تقریبات کے دوران دونوں اعلیٰ افسران کے بگھی میں سوار ہو کر تقریب میں شرکت کرنے پر سامنے آئی۔
آئی جی پولیس اور سی ڈی اے چیئرمین کو الگ الگ بھیجے گئے مراسلے میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے 14 اگست کو منعقد ہونے والی سرکاری تقریب میں پیش آنے والے اس واقعہ کا بہت سنجیدہ نوٹس لیا ہے، دونوں سینئر افسران کے گھوڑا گاڑی میں سوار ہونے کے واقعہ پر عوامی سطح پر بھی شدید تنقید سامنے آئی تھی۔
دستاویز کے مطابق وزیراعظم نے گہری مایوسی اور ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح شان و شوکت اور نمود و نمائش کا مظاہرہ ایک ایسا تاثر دیتا ہے جو خصوصی مراعات، تکبر اور ذاتی تشہیر سے وابستہ ہے، جبکہ یہ رویہ عوامی خدمت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ سول افسران اور سرکاری عہدیداران کو ہر وقت عاجزی، ضبط، وقار اور بہتر فیصلہ سازی کا مظاہرہ کرنا چاہئے، اس طرح کا طرزِ عمل سرکاری اداروں پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے اور اعلیٰ سرکاری افسران سے متوقع معیار کے بھی خلاف ہے۔
مراسلے میں مزید یاد دہانی کرائی گئی کہ وفاقی دارالحکومت کے منتظمین کی حیثیت سے دونوں افسران سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ضابطۂ اخلاق، شائستگی، ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی اور مناسب طرزِ عمل کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھیں گے۔
.jpg)
مراسلے میں یہ بھی کہا گیا کہ آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں محتاط رہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئندہ اس نوعیت کے طرزِ عمل کا اعادہ نہ ہو، اس ہدایت کو حرف بہ حرف اور اس کی روح کے مطابق سختی سے عمل درآمد کے لیے سمجھا جائے۔
وزیراعظم کی جانب سے یہ سرزنش اس وقت سامنے آئی ہے جب دونوں افسران کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ 14 اگست کی پریڈ میں ایک ایسی گھوڑا گاڑی میں سوار ہو کر پہنچتے دکھائی دیے جو بظاہر صدارتی بگھی معلوم ہوتی تھی۔
وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ اعلیٰ انتظامی افسران بگھی پر سوار تقریب میں پہنچے اور وہاں موجود افراد کو مبینہ طور پر تالیاں بجانے کے لیے کہا گیا، تاہم، سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی ویڈیو میں تالیاں بجنے کی آواز سنائی نہیں دیتی، اس منظر پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کی اور بعض نے اسے نوآبادیاتی دور میں اختیار اور مراعات کی نمائش سے تشبیہ دی اور وائسرائے جیسے الفاظ سے پکارا گیا۔
علاوہ ازیں وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس معاملے کی مختلف وضاحت پیش کرتے ہوئے دونوں افسران کا دفاع کیا۔
ایکس پر جاری ایک بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ افسران کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں تھا، صدر اور وزیراعظم کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات کے باعث چیف گیسٹ اور وہ خود تاخیر کا شکار ہوگئے تھے، چونکہ عوام شام 5 بجے سے انتظار کر رہے تھے، اس لیے افسران کو ہدایت کی گئی کہ لوگوں کو مزید انتظار نہ کروایا جائے اور تقریب کا آغاز تقریباً 6 بجے کر دیا جائے۔
وزیر داخلہ کے مطابق بگھی اصل میں چیف گیسٹ کے لیے مختص کی گئی تھی، لیکن ناگزیر حالات کے باعث اسے دونوں افسران کو استعمال کرنا پڑا، انہوں نے کہا کہ دونوں افسران نے ابتدا میں چیف گیسٹ اور وزیر کی عدم موجودگی میں پروگرام شروع کرنے سے گریز کیا تھا، تاہم عوام کی سہولت کے پیشِ نظر انہیں باقاعدہ ہدایت دی گئی کہ تقریب کا آغاز کر دیں۔



