آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کیلئے اہم پیش رفت، نیٹو رکن ممالک کا اجلاس

برسلز(ویب ڈیسک) نیٹو نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کیلئے ممکنہ تعاون پر غور شروع کر دیا ہے۔

نیٹو کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اتحاد کے سپریم الائیڈ کمانڈر جنرل الیکسس گرینکووچ نے متعدد رکن ممالک کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس کیا، جس میں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کیلئے ممکنہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

نیٹو کے اعلیٰ کمانڈر کے ترجمان کے مطابق اجلاس میں ان ممالک کے سربراہان دفاع شریک ہوئے جو آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کیلئے ممکنہ طور پر کردار ادا کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم واضح کیا گیا کہ یہ نیٹو کا باقاعدہ مشن نہیں ہوگا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ نیٹو نے اپنے رکن ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور ان کی فوجی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کی صلاحیت کے باعث رابطہ کاری میں کردار ادا کیا ہے۔

نیٹو ممالک اب تک ایران کے ساتھ جاری تنازع میں اتحاد کی براہِ راست شمولیت سے گریز کرتے رہے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے منصوبوں پر نیٹو کے دائرہ کار سے باہر بات چیت جاری ہے۔

فرانس اور برطانیہ تقریباً 12 ممالک پر مشتمل اتحاد تشکیل دینے کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں، جس کا مقصد کشیدگی کم ہونے یا تنازع ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانا ہے۔

واضح رہے کہ فروری میں لڑائی شروع ہونے سے قبل دنیا بھر میں تجارت کیے جانے والے تقریباً پانچواں حصہ تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل ہوتا تھا۔

مزید خبریں

Back to top button