عمران خان کو ریلیف کن شرائط پر ملا؟چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(جانوڈاٹ  پی کے)سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عمران خان سے ملاقات کے لیے بنیادی طور پر یہ شرائط اور انتظامات سامنے آئے ہیں

عمران خان سے ملاقات کی شرائط

ہفتہ وار ملاقات کا انتظام

حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ عمران خان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہفتہ وار ملاقات کا انتظام کیا جائے۔

ملاقاتوں سے متعلق سابقہ تین سال کا ریکارڈ بھی عدالت نے طلب کیا ہے۔

بچوں سے ٹیلی فونک رابطہ

عمران خان کے بچوں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کروانے کا انتظام کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے سابقہ ٹیلی فونک رابطوں کا ریکارڈ بھی طلب کیا۔

بہنوں سے ملاقات

عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کو ملاقات کی اجازت دی گئی۔عدالت کے سامنے یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو نہیں کی جائے گی۔

ذاتی معالجین تک رسائی

ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو عمران خان تک رسائی دینے کا حکم دیا گیا۔

حکم نامے کے مطابق میڈیکل بورڈ میں ماہرِ امراضِ چشم، جنرل میڈیسن کے ماہر اور ڈاکٹر فیصل سلطان شامل ہوں گے۔

ڈاکٹر غطمیٰ کو بھی رسائی دینے کا ذکر حکم نامے میں ہے۔

ملاقات کے بعد سیاسی سرگرمی پر پابندی

عمران خان کی ملاقات کے لیے آنے والے افراد اسپتال کے باہر کسی قسم کی سیاسی سرگرمی نہیں کریں گے۔

اسپتال کے باہر جلسہ، اجتماع یا سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔

میڈیا ٹاک اور پریس کانفرنس پر پابندی

ملاقات کے بعد اسپتال کے باہر میڈیا ٹاک یا پریس کانفرنس نہیں کی جائے گی۔

وکیل عزیر بھنڈاری اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے اس حوالے سے یقین دہانی کرائی گئی۔

اسپتال میں اجتماع نہیں ہوگا

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ عمران خان کی موجودگی کے دوران اسپتال میں کسی قسم کا اجتماع نہیں ہوگا۔

عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اسپتال میں دوسرے مریض بھی زیرِ علاج ہوتے ہیں، اس لیے ان کی سہولت متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

میڈیکل رپورٹس کو خفیہ رکھنا ہوگا

عمران خان کی میڈیکل رپورٹ کو مکمل خفیہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اہل خانہ اور وکلا میڈیکل رپورٹس کو میڈیا کے ساتھ شیئر نہیں کریں گے۔میڈیکل رپورٹس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا،حکم نامے میں واضح کیا گیا کہ عمران خان کی میڈیکل رپورٹس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے فریقین کو صحت کے معاملے پر سیاست سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی۔

علاج کے اخراجات خاندان اٹھائے گا

الشفاء انٹرنیشنل اسپتال میں عمران خان کے علاج کے اخراجات ان کی فیملی برداشت کرے گی۔

اسپتال کی منتقلی

عدالت نے عمران خان کو آئندہ سماعت تک اسلام آباد کے الشفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

شرائط کی خلاف ورزی پر حکم واپس ہوسکتا ہے

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر ان شرائط کی خلاف ورزی ہوئی تو عدالتی حکم واپس لیا جا سکتا ہے۔

حکومت کو بھی خلاف ورزی کی صورت میں دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حق دیا گیا ہے۔

عمران خان سے متعلق احکامات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں ان کی جانب سے بھی عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

اہم نکتہ

عدالت نے ملاقات کو بنیادی حق قرار دیتے ہوئے سیاسی سرگرمی کو اس سے الگ رکھنے پر زور دیا ہے۔ یعنی اہل خانہ اور مجاز ڈاکٹرز کو ملاقات/طبی رسائی دی جائے گی، لیکن اسپتال کو سیاسی سرگرمی یا میڈیا سرگرمی کا مرکز نہیں بنایا جا سکے گا۔

کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر کو ہوگی، جبکہ عدالت نے اس سے پہلے عمران خان کا مکمل میڈیکل ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button