عمران خان کی ہسپتال منتقلی ’’اچھی بات ہے‘‘،مولانا فضل الرحمان کا بڑا سیاسی دھماکہ،حکومت کو کھری کھری سنادیں

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے): جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملکی سیاسی صورتحال پر اہم بیان دیتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ’’معقول دوری‘‘ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دے دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلاوجہ تعصب، نفرت اور مخالفت برائے مخالفت سے گریز کرنا چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران مولانا فضل الرحمان سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے مختصر مگر معنی خیز جواب دیتے ہوئے کہا:
’’یہ اچھی بات ہے۔‘‘
مریض کی صحت میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر کسی مریض کو صحت کے حوالے سے شکایت ہو تو فوری کارروائی ہونی چاہیے اور اس معاملے میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
ان کے اس بیان کو عمران خان کی صحت اور علاج سے متعلق جاری سیاسی بحث کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کو کیا مشورہ دیا؟
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ اپوزیشن کا بنیادی فرض حکومت کی کمزوریوں کی نشاندہی کرنا اور ان کی اصلاح میں کردار ادا کرنا ہے، تاہم سیاسی معاملات میں سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک معقول فاصلہ ہونا چاہیے، لیکن محض مخالفت کے لیے مخالفت، نفرت یا تعصب کو سیاست کا محور نہیں بنانا چاہیے۔
پی ٹی آئی کا احتجاج اندرونی معاملہ قرار
مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کے احتجاج کو اس کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے معاملات اپنی جگہ ہیں، تاہم ملکی مسائل پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔
نئے صوبوں پر بھی بڑا سوال اٹھا دیا
صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حمایت اور مخالفت کے درمیان واضح لکیر کھینچ دینے سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بحث کرنے دی جائے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ نئے صوبوں کی اصولی اور عملی حیثیت کیا ہے، جبکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس کے لیے ماحول تیار ہے یا نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے وسائل کی کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا:
’’وسائل کے بغیر نئے صوبے کیسے بنیں گے؟‘‘
اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش؟
جے یو آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ صوبوں کا معاملہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی بڑے سیاسی یا انتظامی فیصلے سے پہلے اس کے عملی پہلو، وسائل اور زمینی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے عمران خان کی اسپتال منتقلی کے فیصلے پر مثبت مختصر ردعمل، حکومت اور اپوزیشن کے تعلقات پر مشورے اور نئے صوبوں کے معاملے پر سوالات نے ملکی سیاسی منظرنامے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
کیا مولانا فضل الرحمان حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرنے کے لیے کوئی نیا سیاسی کردار ادا کرنے جارہے ہیں؟ سیاسی حلقوں کی نظریں اب ان کے اگلے قدم پر ہیں۔



