ملک میں لنگڑا نظام ہے، بہاولپور اور ہزارہ کو فوری صوبہ بنایا جائے، محمد علی درانی

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور مضبوط بلدیاتی نظام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اس وقت لنگڑے نظام کے تحت چل رہا ہے، اسے دونوں ٹانگوں پر کھڑا کرنا ہوگا۔

لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد علی درانی نے کہا کہ آئین کے مطابق جہاں ضرورت ہو وہاں نئے صوبے بننے چاہئیں، تاہم پہلے مرحلے میں بہاولپور اور ہزارہ کو نئے صوبے بنایا جائے، اس کے بعد مزید صوبوں کے قیام کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہاولپور اور ہزارہ صوبوں کے قیام کے تمام آئینی تقاضے پورے ہوچکے ہیں اور وہ اسمبلی و سینیٹ میں دونوں صوبوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم پیش کریں گے۔

محمد علی درانی کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی تین مرتبہ ہزارہ صوبے کے قیام کی قرارداد منظور کرچکی ہے جبکہ پنجاب اسمبلی میں بھی بہاولپور صوبے کے حوالے سے قرارداد منظور ہوچکی ہے۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کے بغیر نظام حکومت مؤثر نہیں ہوسکتا۔ عوام کے مسائل ان کی دہلیز تک پہنچائے بغیر گورننس بہتر نہیں کی جاسکتی، جبکہ اس کا خمیازہ بالآخر سیکیورٹی اداروں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آمریت والے ممالک میں بھی بلدیاتی ادارے موجود ہوتے ہیں، مگر پاکستان میں فنڈز صوبوں کے بجائے وزرائے اعلیٰ کے اختیار میں رہتے ہیں۔ حکومتی جماعتیں بلدیاتی نظام کی بات تو کرتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ نظام ختم ہی کیوں کیا گیا؟

محمد علی درانی کا کہنا تھا کہ عوام موجودہ صورتحال سے تنگ آچکے ہیں اور نظام کو اس کے موجودہ لنگڑے پن سے نکالنا ہوگا۔ ان کے بقول بلدیاتی اداروں کے بغیر موجودہ نظام ادھورا اور کمزور ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ نئے صوبوں کے مخالف نہیں بلکہ مرحلہ وار نئے صوبے بنانے کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور ایران میں بھی نئے صوبے قائم ہوئے اور یہ عمل مرحلہ وار آگے بڑھا۔

سندھ میں نئے صوبوں کے حوالے سے سوال پر محمد علی درانی نے کہا کہ انہیں آصف علی زرداری سے گلہ ہے کہ جب بھی عوامی فائدے کی کوئی بات آگے بڑھتی ہے تو اس کی مخالفت شروع ہوجاتی ہے۔

کالاباغ ڈیم کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ کالاباغ ڈیم کے حامی ہیں اور عوام کی آواز بن کر ان کے مسائل بیان کرتے ہیں۔

محمد علی درانی نے مزید کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک نے آمریت یا جمہوریت میں ترقی کی ہے، تاہم ہائبرڈ نظام میں ترقی نہیں کی۔

مزید خبریں

Back to top button