کلوئی کے قریب نایاب ہرنوں کا شکار، وائلڈ لائف محکمے کی کارروائی پر سوال

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) گیم سینکچری اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہونے کے باوجود کلوئی کے قریب نایاب ہرنوں کے مبینہ غیر قانونی شکار کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

گاؤں کیڑڑبارو میں نامعلوم شکاریوں نے مبینہ طور پر 3 ہرنوں کو گولیاں مار کر زخمی کردیا، جن میں سے 2 ہرن تڑپ تڑپ کر ہلاک ہوگئے، جبکہ ایک ہرن کو زخمی حالت میں دیہاتیوں نے پکڑ لیا۔

علاقہ مکین مجنون نہڑیو کے مطابق واقعے کی اطلاع وائلڈ لائف محکمے کو دینے کے ساتھ شکار کے تمام ثبوت اشفاق میمن کے حوالے کیے گئے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے لیے کوئی افسر موقع پر نہیں پہنچا اور نہ ہی کوئی کارروائی کی گئی۔

دیہاتیوں کا الزام ہے کہ تھر میں جنگلی حیات مکمل طور پر محفوظ نہیں، جبکہ رات کے وقت ٹارچوں، موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کے ذریعے غیر قانونی شکار کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب وائلڈ لائف کے ڈپٹی کنزرویٹر ممتاز سومرو کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق مقدمہ درج کیا جائے گا۔

علاقہ مکینوں نے وائلڈ لائف محکمے اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مردہ اور زخمی ہرنوں کا قانونی و طبی معائنہ کرایا جائے اور ملوث شکاریوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

مزید خبریں

Back to top button