تھرپارکر میں ماحولیاتی نظام تباہی کے خطرے سے دوچار، قیمتی درختوں کی مبینہ کٹائی پر تشویش

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھرپارکر میں گیم سینکچری اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہونے کے باوجود قیمتی درختوں کی مبینہ غیرقانونی کٹائی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

مون سون کی حالیہ بارشوں کے بعد تھر کا ریگستان سرسبز ہو گیا ہے اور قدرتی حسن نمایاں ہے، تاہم دوسری جانب قیمتی درختوں کی مبینہ کٹائی کے باعث علاقے کے ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

علاقہ مکینوں کے مطابق تحصیل کلوئی سمیت تھرپارکر کے مختلف علاقوں میں بااثر افراد کی جانب سے مبینہ طور پر قیمتی درختوں کی کٹائی کا سلسلہ جاری ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کونبھٹ، جال، روہیڑو اور دیگر قیمتی درخت کاٹ کر لکڑی حاصل کی جا رہی ہے، جبکہ بعض مقامات پر لکڑی کے ڈھیر بھی قائم کیے گئے ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق کلوئی کے مختلف علاقوں میں لکڑی کی خرید و فروخت کا کاروبار جاری ہے اور بعض مقامات پر آرا مشینیں چلنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ رہائشیوں کا الزام ہے کہ پابندیوں کے باوجود لکڑی سے لدی گاڑیاں روزانہ مختلف علاقوں سے روانہ ہوتی ہیں اور لکڑی دیگر شہروں تک منتقل کی جا رہی ہے۔

گاؤں کھاڑک سمیت تحصیل کلوئی کے مختلف علاقوں میں قیمتی درختوں کی تیزی سے کٹائی پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر غیرقانونی درختوں کی کٹائی فوری طور پر نہ روکی گئی تو تھر کے قدرتی ماحول، چراگاہوں، پرندوں اور جنگلی جانوروں کی قدرتی رہائش گاہوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین اور باشعور حلقوں کے مطابق تھرپارکر کا ماحولیاتی نظام درختوں، چراگاہوں اور جنگلی حیات پر مشتمل ایک باہم جڑا ہوا قدرتی نظام ہے۔ درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی سے نہ صرف قدرتی حسن متاثر ہوگا بلکہ زمین کے کٹاؤ، درجہ حرارت میں اضافے اور جنگلی حیات کی رہائش گاہوں کی تباہی جیسے مسائل بھی سنگین ہوسکتے ہیں۔

باشعور حلقوں نے محکمہ وائلڈ لائف، محکمہ جنگلات اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل کلوئی سمیت تھرپارکر کے مختلف علاقوں میں لکڑی کے ڈھیروں اور آرا مشینوں کی فوری جانچ کی جائے، غیرقانونی لکڑی کے کاروبار میں مبینہ طور پر ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور قیمتی درختوں کے تحفظ کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔

علاقہ مکینوں نے مزید مطالبہ کیا کہ گیم سینکچری کی حدود اور ملحقہ علاقوں میں جنگلی حیات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ تھرپارکر کا قدرتی ماحول، فطری حسن، قیمتی درخت اور جنگلی حیات آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکیں۔

مزید خبریں

Back to top button