جو مرضی کرلیں سندھ میں نیا صوبہ نہیں بنے گا، زبردستی فیصلہ ہوا تو خطرناک نفرت پیدا ہوگی، سعید غنی

کراچی (جانوڈاٹ پی کے) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے نئے صوبوں کے قیام کی بحث پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں کسی صورت نیا صوبہ نہیں بنے گا اور زبردستی صوبہ بنانے کی کوشش کی گئی تو عوام میں خطرناک نفرت پیدا ہوگی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ نئے صوبوں سے متعلق وزیر داخلہ نے بات کی تو انہوں نے اگلے ہی روز جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کی سندھ میں کوئی سیاسی حیثیت نہیں، جو بھی اس معاملے پر بات کرے گا، اسے جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایس پی آر سے نئے صوبوں کے حوالے سے سوال کیا گیا جس کا انہوں نے جواب دیا، تاہم آئی ایس پی آر کا کام یہ طے کرنا نہیں کہ صوبے بننے چاہئیں یا نہیں۔
سعید غنی کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام کسی صورت نئے صوبے کے قیام کے حق میں نہیں۔ اگر زبردستی فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے اور لوگوں میں شدید بدگمانی اور نفرت جنم لے گی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صورتحال مختلف ہے۔ اگر پنجاب یا خیبر پختونخوا کی اسمبلی اپنے صوبے سے متعلق کوئی قرارداد منظور کرتی ہے تو وہ اپنے فیصلے میں آزاد ہیں۔
بلدیاتی اداروں کے وسائل میں کمی کا اعتراف
بلدیاتی امور اور ترقیاتی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے اعتراف کیا کہ ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کو وسائل کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث متعدد ترقیاتی کام مقررہ وقت پر مکمل نہیں ہو پاتے۔
سعید غنی کے مطابق اس کے باوجود کراچی میں آئی ٹی، کھیلوں کے گراؤنڈز، سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر و بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو بنیادی سہولیات کے ساتھ معیاری تعلیم اور صحت کی بھی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے شہید نجیب عالم اسکول کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اسے ایک کھنڈر سے بہترین تعلیمی ادارے میں تبدیل کیا گیا ہے، تاہم اس معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ علاقے کے لوگ اسکول کی مکمل اونرشپ لیں۔
سعید غنی نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجیں اور اساتذہ و عملے کی کارکردگی پر بھی نظر رکھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کورنگی سمیت کراچی بھر میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کیے ہیں اور بلدیاتی اداروں کے تعاون سے شہریوں کی ضروریات اور مسائل حل کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔



