آبنائے ہرمز میں تیل کے اخراج سے کھربوں ڈالر کے ماحولیاتی نقصان کا دعویٰ

تہران (ویب ڈیسک) ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خطے کے سمندری ماحولیاتی نظام میں تیل کی آلودگی سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ کھربوں ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جزیرہ قیشم کے قریب تیل کے رساؤ کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اس واقعے کا ذمہ دار ایک غیر ملکی جہاز کو قرار دیا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ واقعہ خطے کے ممالک کے ساحلی علاقوں میں جاری آلودگی کی صرف ایک مثال ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران آلودگی نے خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے پانیوں سمیت پورے خطے کے سمندری ماحولیاتی نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔
ایرانی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اس ماحولیاتی نقصان کے نتیجے میں ایرانی ساحلی علاقوں کے سمندری نظام کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تجارتی بحری آپریشنز میں شامل تمام فریقوں کو خطے میں پھیلنے والی آلودگی کی صفائی کے لیے قانونی اور اخلاقی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق 247 میٹر طویل تیل بردار بحری جہاز ’’کیرولین بیزنگی‘‘ مئی میں بحیرہ اسود کی ایک بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا۔ جہاز کے عملے نے 8 جون کو جہاز پر دھماکے کی اطلاع دی، جس کے بعد یہ عمان کے صوبہ ظفار میں الحلانیات جزائر کے قریب پھنس گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حادثے کے بعد جہاز سے تیل کا اخراج شروع ہوا، جس کے نتیجے میں اب تک عمان کی تقریباً 12 کلومیٹر ساحلی پٹی آلودہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔



