یمن میں 48 گھنٹوں کے دوران 200 سے زائد حوثی باغی ہلاک ہو گئے

صنعا (ویب ڈیسک) یمن میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران جھڑپوں اور ڈرون حملوں میں 200 سے زائد حوثی جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں جنوب مغربی صوبے تعز میں ہونے والی جھڑپوں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہوئیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی شروع ہونے کے بعد یہ حوثیوں کو پہنچنے والے بھاری نقصانات میں سے ایک ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے بیشتر جنگجو نام نہاد الصمد بریگیڈ سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ گزشتہ دو روز کے دوران حوثیوں کے زیرِ کنٹرول دارالحکومت صنعا کے ہسپتالوں میں بڑی تعداد میں لاشیں منتقل کی گئی ہیں۔
یمنی میڈیا کے مطابق حوثیوں نے تعز شہر میں دوبارہ کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تازہ کمک بھیج دی ہے۔ حوثی ملیشیا نے مزید جنگجو بھرتی کرنے کے لیے اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں کی جیلوں سے قیدیوں کو رہا کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صعدہ، حجہ اور صنعا کی جیلوں سے 850 قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے، جن میں سنگین جرائم اور منشیات سے متعلق مقدمات میں گرفتار افراد بھی شامل ہیں۔
علاوہ ازیں صوبہ ذمار میں مزید 1,400 قیدیوں کی رہائی کی تیاریاں جاری ہیں۔ یمنی میڈیا کے مطابق ان قیدیوں کو اس شرط یا وعدے پر رہا کیا جا رہا ہے کہ وہ حوثیوں کی لڑائی میں حصہ لیں گے۔



