پسند کی شادی کا تنازع شدت اختیار کرگیا،بدین میں پورا گاؤں اجاڑدیا،600افراد بے گھر

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ/ پی کے)گولاڑچی تعلقہ کے چک نمبر 5 ملتانی میں پسند کی شادی کے معاملے پر پیدا ہونے والا تنازع شدت اختیار کر گیا، جہاں متاثرہ ماچھي برادری نے الزام عائد کیا ہے کہ بااثر افراد نے مبینہ طور پر ان کے پورے گاؤں پر دھاوا بول کر تقریباً 60 کچے پکے مکانات مسمار کر دیے، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں، بے گھر ہو گئے متاثرین کے مطابق نوجوان ندیم ماچھي اور عالیان فاطمہ کمبوہ کی ہائی کورٹ میں پسند کی شادی کے بعد دونوں خاندانوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔ ماچھي برادری کا الزام ہے کہ اسی تنازع کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف مبینہ کارروائی کی گئی اور چک نمبر 5 میں کئی سال سے آباد ان کے گھروں کو مسمار کر دیا گیا متاثرہ افراد کا دعویٰ ہے کہ مسمار کیے گئے گھروں میں سیلاب متاثرین کے لیے سندھ حکومت کی پکی گھروں کی اسکیم کے تحت تعمیر کیے گئے 15 مکانات بھی شامل ہیں، جبکہ مبینہ طور پر گاؤں کی تقریباً چار ایکڑ اراضی پر بھی قبضہ کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کارروائی کے باعث تقریباً 600 افراد بے گھر ہو کر شدید مشکلات سے دوچار ہیں
متاثرین نے حاجی محبوب، حاجی یحییٰ، حق نواز کمبوہ، جمعون مقبول اور دیگر افراد پر مبینہ طور پر گاؤں پر چڑھائی، فائرنگ اور خوف و ہراس پھیلانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے باعث خواتین، بچوں اور مردوں کو جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا، جبکہ گاؤں خالی ہونے کے بعد گھروں سے قیمتی سامان اور مویشی لے جانے کا بھی مبینہ طور پر دعویٰ کیا گیا ہے متاثرہ خاندانوں کے مطابق واقعے میں انہیں لاکھوں روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے، دھمکیوں اور تحفظ کے لیے متعلقہ حکام کو 12 سے زائد درخواستیں دی جا چکی ہیں، تاہم ان کے مطابق تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی واقعے کے خلاف میرزادی ماچھي، کریمان ماچھي، ارباب خاتون، ہوا ماچھي سمیت دیگر متاثرہ خواتین و مردوں نے ٹی وی جرنلسٹ کلب گولاڑچی کے سامنے احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے صحافیوں کو بتایا کہ غریب ماچھي برادری کو پسند کی شادی کے تنازع کی آڑ میں مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا ہے اور کئی برسوں سے آباد ان کے گھروں کو مسمار کرکے انہیں دربدر کر دیا گیا دوسری جانب ایس ایس پی بدین کے دفتر سے جاری بیان میں گاؤں مسمار کیے جانے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ماچھي برادری کے افراد خود گاؤں خالی کرکے چلے گئے ہیں۔ پولیس کے اس مؤقف کے بعد معاملہ مزید متنازع ہوگیا ہے اور متاثرین کے الزامات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ سامنے آیا ہے متاثرین نے سندھ حکومت، ضلعی انتظامیہ، پولیس کے اعلیٰ حکام اور ایس ایس پی بدین سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر مبینہ فائرنگ، گھروں کی مسماری، سامان اور مویشی لے جانے کے الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، متاثرہ خاندانوں کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے اور اگر ان کی املاک کو غیر قانونی طور پر نقصان پہنچایا گیا ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے متاثرین کے نقصان کا ازالہ کیا جائے



