ایمیزون پر پاکستانی سیلرز کا کریک ڈاؤن، ہزاروں اکاؤنٹس بند ہونے کا دعویٰ، شارٹ کٹ نے ای کامرس کو خطرے میں ڈال دیا

لاہور (سپیشل رپورٹ)پاکستان میں ای کامرس کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ ایک سنگین مسئلہ بھی سامنے آیا ہے۔ آن لائن کاروبار سے وابستہ حلقوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایمیزون نے بڑی تعداد میں پاکستانی سیلرز کے اکاؤنٹس مستقل طور پر معطل یا بلیک لسٹ کیے ہیں، جس کے باعث ایمانداری سے کاروبار کرنے والے پاکستانی سیلرز بھی تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔
ای کامرس ماہرین کے مطابق پاکستان میں ایمیزون کے ذریعے کاروبار کے مواقع پیدا ہونے کے بعد بڑی تعداد میں نوجوانوں نے آن لائن سیلنگ شروع کی، تاہم بعض افراد کی جانب سے پلیٹ فارم کی پالیسیوں کو نظر انداز کرنے، مبینہ دھوکہ دہی اور مختلف غیر قانونی شارٹ کٹس استعمال کرنے کی شکایات نے پاکستانی سیلرز کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔
’’سیکرٹ ٹپس‘‘ کے نام پر شارٹ کٹ کا کاروبار
ای کامرس حلقوں میں سب سے زیادہ تنقید ان مبینہ مینٹورز پر کی جا رہی ہے جو نوجوانوں کو ’’بغیر سرمایہ کاری لاکھوں کمائیں‘‘، ’’سیکرٹ اسٹریٹیجی‘‘ اور ’’ایمیزون بائی پاس‘‘ جیسے دعووں کے ذریعے کورسز فروخت کرتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض تربیتی پروگراموں میں قانونی اور پائیدار ای کامرس بزنس کے بجائے ایسے طریقے سکھائے جاتے ہیں جو ایمیزون کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آسکتے ہیں۔ نتیجتاً نئے سیلرز نہ صرف اپنا سرمایہ خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ اپنے اکاؤنٹس بھی مستقل طور پر گنوا سکتے ہیں۔
ڈراپ شپنگ، جعلی ٹریکنگ اور فیک ریویوز زیرِ بحث
پاکستانی سیلرز سے متعلق شکایات میں مبینہ طور پر غیر مجاز ڈراپ شپنگ، جعلی ٹریکنگ نمبرز، جعلی ریویوز، ریفنڈ کے غلط استعمال، کسٹمر کو گمراہ کرنے، دوسرے برانڈز کی مصنوعات کو غیر مجاز طور پر لسٹ کرنے اور پروڈکٹ ری ٹیگنگ جیسے طریقوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔
خاص طور پر ایسے ماڈلز پر سوالات اٹھ رہے ہیں جن میں کسی دوسرے آن لائن اسٹور سے مصنوعات خرید کر انہیں ایمیزون پر فروخت کیا جاتا ہے، جبکہ سیلر پلیٹ فارم کی مقررہ شرائط پوری نہیں کرتا۔ ایسے معاملات میں اکاؤنٹ معطلی کے ساتھ ساتھ متعلقہ سپلائرز اور دیگر کاروباری فریقوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔
جعلی ریفنڈنگ نے مسئلہ مزید سنگین کردیا
ای کامرس حلقوں میں فیک ریفنڈنگ کے حوالے سے بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ بعض مبینہ طریقوں میں کسی دوسرے اسٹور سے خریدی گئی مصنوعات کے بارے میں جھوٹا دعویٰ کرکے رقم واپس لینے یا ناقص مصنوعات کی جگہ مختلف چیز واپس کرنے جیسے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔
اسی طرح بعض کیسز میں کسٹمر کو ایک چیز دکھا کر دوسری مصنوعات بھیجنے، جعلی ٹریکنگ فراہم کرنے یا اسٹاک ختم ہونے کے باوجود آرڈر لینے کے بعد مختلف حیلوں سے ریفنڈ کرنے کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسے طریقے نہ صرف پلیٹ فارم کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کا باعث بنتے ہیں بلکہ کسٹمر کا اعتماد، سیلر کی ساکھ اور پورے ملک کے ای کامرس امیج کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
’’چند لوگوں کی حرکتوں کا خمیازہ سب کو نہ بھگتنا پڑے‘‘
ایمانداری سے ای کامرس کاروبار کرنے والے پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ چند افراد کے شارٹ کٹس اور مبینہ فراڈ کی وجہ سے ان کاروباری افراد کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے جو معیار، کسٹمر سروس اور پلیٹ فارم کی پالیسیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل المدت کاروبار کررہے ہیں۔
تشویش یہ بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ اگر کسی ملک سے مسلسل پالیسی خلاف ورزیوں اور فراڈ کی شکایات بڑھیں تو اس ملک سے تعلق رکھنے والے تمام سیلرز پر اعتماد متاثر ہوسکتا ہے، جس سے حقیقی اور محنتی کاروباری افراد بھی مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں۔
نوجوانوں کیلئے بڑا سبق
ای کامرس ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن کاروبار میں شارٹ کٹ کے بجائے پائیدار اور قانونی طریقہ کار اپنانا ضروری ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی کورس یا مینٹور کے دعووں پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کرنے کے بجائے متعلقہ پلیٹ فارم کی اصل پالیسیاں خود پڑھیں اور ایسی حکمت عملی سے گریز کریں جس سے اکاؤنٹ معطلی یا مستقل پابندی کا خطرہ ہو۔
ای کامرس میں حقیقی کامیابی کے لیے معیاری مصنوعات، درست معلومات، شفاف کاروباری معاملات، بہترین کسٹمر سروس اور طویل المدت حکمت عملی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
پیغام واضح ہے: چند دنوں کے شارٹ کٹ اور مبینہ ’’سیکرٹ ٹرکس‘‘ کے بجائے ایمانداری، مہارت اور محنت سے عالمی ای کامرس مارکیٹ میں پاکستان کا مثبت نام بنایا جائے، تاکہ حقیقی کاروباری افراد اور نوجوانوں کے لیے مواقع مزید وسیع ہوسکیں۔
نوٹ: پاکستانی اکاؤنٹس کی ’’ایک سال میں 13 ہزار سے زائد مستقل پابندی‘‘ سمیت مخصوص اعداد و شمار اور بلیک لسٹ ہونے کے دعووں کی آزادانہ تصدیق اس متن میں موجود نہیں، اس لیے انہیں حتمی سرکاری اعداد و شمار کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔



