سیوتا میں تارکین وطن کی اجتماعی داخلے کی کوشش ناکام، 100 سے زائد افراد گرفتار

سیوتا (ویب ڈیسک) مراکش کے راستے اسپین کے خودمختار علاقے سیوتا میں داخل ہونے کی نئی اجتماعی کوشش سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دی، جبکہ کارروائی کے دوران 100 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق مراکش کے شہر فنی دق میں سیکڑوں تارکین وطن نے سرحد کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، جس کے بعد مراکشی پولیس اور اسپین کی سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کردی۔
ممکنہ اجتماعی بارڈر کراسنگ کے پیش نظر اسپین نے اضافی فوجی اور سکیورٹی اہلکار تعینات کیے، جبکہ مراکش کی جانب بھی پولیس کی بھاری نفری موجود رہی۔ سرحد پر رکاوٹیں اور خاردار تاریں بھی نصب کردی گئیں۔
مراکشی وزارت داخلہ کے مطابق کسی بھی غیر قانونی سرحدی کراسنگ کی کوشش کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔
حالیہ سکیورٹی اقدامات سوشل میڈیا اور آن لائن فورمز پر گردش کرنے والی ان افواہوں کے بعد کیے گئے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 15 اگست کو سیوتا کی سرحد کھول دی جائے گی۔
اسپین نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے سرحد پر مزید اہلکار تعینات کیے۔ ہسپانوی سول گارڈ کے مطابق سرحد نہ کھلی ہے اور نہ ہی اسے کھولا جائے گا۔
واضح رہے کہ سیوتا اور میلیلا افریقہ میں واقع اسپین کے دو خودمختار علاقے ہیں اور یورپی یونین کی افریقہ کے ساتھ واحد زمینی سرحدیں بھی یہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ماضی میں بھی بڑی تعداد میں تارکین وطن نے سیوتا میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے دوران جانی نقصان بھی ہوا۔ حالیہ صورتحال کے بعد دونوں جانب حکام نے کسی بھی نئی اجتماعی سرحدی کراسنگ کی کوشش روکنے کے لیے سکیورٹی مزید بڑھا دی ہے۔



