ایران امریکامذاکرات کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں،پاکستان نے بڑااعلان کردیا

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز ہوگئیں۔ دفتر خارجہ نے واضح کردیا ہے کہ فریقین کی رضامندی سے ایران امریکا مذاکرات کسی بھی وقت اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں، جبکہ پاکستان براہِ راست اور بالواسطہ تمام سفارتی چینلز استعمال کررہا ہے۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے ایران کے حالیہ اہم دورے سمیت پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کے لیے کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔

پاکستان پھر ثالثی کے میدان میں

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد اور ایران و امریکا کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان امن کے لیے ثالثی کے حوالے سے پرامید ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب راستے استعمال کیے جارہے ہیں۔

طاہر حسین اندرابی کے مطابق اگر دونوں فریق رضامند ہوں تو اسلام آباد میں مذاکرات کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل عملدرآمد شاید نہ ہوسکا ہو، تاہم امن کے لیے اس کا بنیادی فریم ورک اب بھی موجود ہے۔

جنگ بندی میں توسیع کا امکان

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ جنگ بندی میں فریقین کی رضامندی سے توسیع کی جاسکتی ہے، جس سے مذاکرات کی بحالی کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے جنگ بندی برقرار رکھنے اور دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی سفارتی کوششوں کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔

مکہ معاہدے پر اختلافات کی تردید

7 اگست کے مکہ معاہدے کے حوالے سے طاہر حسین اندرابی نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے کی سیکیورٹی صورتحال سے مشترکہ طور پر نمٹنا ہے۔

انہوں نے معاہدے پر ریاستی اداروں کے درمیان اختلاف رائے کی اطلاعات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے معاہدے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہیں۔

ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے بطور لیڈر آف دی ہاؤس معاہدے پر دستخط کیے اور یہ کہنا درست نہیں کہ کسی متعلقہ ادارے کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

مکہ معاہدہ دیگر ممالک کے لیے کھلا

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مکہ معاہدہ کھلا ہے، تاہم اس میں نئے ممالک کی شمولیت کے حوالے سے فی الحال کوئی حتمی بات نہیں کہی جاسکتی۔

انہوں نے بتایا کہ چین اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات کے مختلف فورمز بھی کھلے ہیں، جبکہ پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی معاہدے کا حصہ ہے اور اس پر عملدرآمد کررہا ہے۔

بحرین کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان متوقع

طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ بحرین کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے دورے کی خواہش ظاہر کی ہے، جس کا وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خیرمقدم کیا ہے۔

دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے سمیت مختلف امور پر بات چیت کی جارہی ہے۔ تاہم ترجمان نے کہا کہ انہیں محسن نقوی کے دورے کے دوران کسی خصوصی پیغام کے حوالے سے علم نہیں۔

بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر توجہ دینے کا مشورہ

آزاد کشمیر کی صورتحال پر بھارت کے تبصروں کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت آزاد کشمیر کی صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہا ہے۔

انہوں نے بھارت کو مشورہ دیا کہ آزاد کشمیر پر تبصرے کرنے کے بجائے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر توجہ دے اور کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دے۔

تجارتی جہازوں پر حملے قابل مذمت، بحری اتحاد فعال کرنے کے لیے تیار

دفتر خارجہ نے تجارتی جہازوں پر حملوں اور آزادانہ بحری راستوں میں رکاوٹ ڈالنے کی بھی شدید مذمت کی۔

ترجمان کے مطابق کمرشل جہازوں کو نشانہ بنانا اور بحری راستوں کی آزادی میں رکاوٹ ڈالنا ناقابل قبول ہے۔ پاکستان سعودی قیادت میں بحری اتحاد کے معاہدے کو آپریشنل بنانے کے لیے تیار ہے۔

یوں پاکستان نے ایک ہی وقت میں ایران امریکا مذاکرات کی بحالی، جنگ بندی میں توسیع، مکہ دفاعی معاہدے، علاقائی سلامتی اور آزاد بحری راستوں کے حوالے سے اپنا سفارتی کردار واضح کردیا ہے، جبکہ اسلام آباد ایک بار پھر ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کے مرکز میں آتا دکھائی دے رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button