’’6 ماہ بھی لگیں تو پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال نے حکومت کو بڑا چیلنج دیدیا

کراچی/لاہور (جانو ڈاٹ پی کے) آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال پانچویں روز بھی جاری ہے اور حکومت و ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد بحران مزید سنگین ہوگیا۔ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی، چاہے اس میں چھ ماہ ہی کیوں نہ لگ جائیں۔
ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر مواصلات کی سربراہی میں قائم کردہ کمیٹی کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں، حکومت اور صوبائی انتظامیہ ٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہیں۔
’’اس بار ہڑتال ختم نہیں ہوگی‘‘
صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے واضح کیا کہ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی اور مطالبات کی مکمل منظوری کے بغیر کسی صورت احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز کا احتجاج پرامن ہے اور وہ اپنے جائز مطالبات کے حصول کے لیے ہڑتال کررہے ہیں۔ حکومت اگر یہ سمجھتی ہے کہ دسمبر کی طرح اس مرتبہ بھی ٹرانسپورٹرز کچھ یقین دہانیوں کے بعد ہڑتال ختم کردیں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔
ملک شہزاد اعوان نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مطالبات کی مکمل منظوری تحریری صورت میں دی جائے گی تو ہی ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا جائے گا۔
’’6 ماہ بھی لگے تو ہڑتال جاری رہے گی‘‘
گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر نے حکومت کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مطالبات کی منظوری میں چھ ماہ بھی لگ گئے تو ٹرانسپورٹرز ہڑتال جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور ان کے حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا، ملک گیر ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی۔
پانچ روز میں اربوں روپے کا نقصان
ملک شہزاد اعوان کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث گزشتہ پانچ روز کے دوران اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے، تاہم اس کے باوجود وفاقی اور سندھ حکومتیں ٹرانسپورٹرز کے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہڑتال طویل ہونے کی صورت میں اس کے اثرات ملکی تجارت، صنعت، سپلائی چین اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
حکومت اور ٹرانسپورٹرز آمنے سامنے
پانچویں روز بھی ملک گیر ہڑتال جاری رہنے اور مذاکرات کی ناکامی کے بعد حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان ڈیڈ لاک مزید بڑھ گیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے واضح کردیا ہے کہ تحریری ضمانت اور نوٹیفکیشن کے بغیر ہڑتال ختم نہیں ہوگی۔
دوسری جانب ہڑتال طویل ہونے کی صورت میں ملکی معیشت اور سامان کی ترسیل کے نظام پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے باعث حکومت کے لیے اس معاملے کا فوری حل تلاش کرنا مزید اہم ہوگیا ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کے ’’چھ ماہ بھی لگ جائیں‘‘ والے اعلان نے حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی، جبکہ پانچ روزہ ہڑتال کے بعد اب نظریں آئندہ مذاکرات اور حکومتی فیصلے پر مرکوز ہوگئی ہیں۔



