چھاپر کھوسہ سے 18 روز قبل نوجوان مبینہ اغوا، پولیس بازیابی میں ناکام، ملزمان سے ملی بھگت کا الزام

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ولیج چھاپر کھوسہ کے رہائشی چنیسر کوسو نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے 30 ایکڑ زرعی زمین پر کام کرنے والے بیٹے دیدار حسین ولد چنیسر کوسو کو 24 جولائی کی شام مبینہ طور پر دین محمد بجیر ولد سالم بجیر اور اس کے تین بیٹوں اقبال، خالد اور دلبر ٹریکٹر سمیت زمین سے اغوا کرکے لے گئے، جس کے بعد سے نوجوان کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ چنیسر کوسو کا کہنا ہے کہ پولیس بھی نوجوان کو بازیاب کرانے میں ناکام رہی ہے۔ متاثرہ نوجوان کے والد نے الزام عائد کیا کہ پولیس مبینہ طور پر ملزمان کے ساتھ ملی بھگت کرتی دکھائی دے رہی ہے، اسی لیے انہیں صرف یقین دہانیاں کرائی جا رہی ہیں۔ چنیسر کوسو کے مطابق واقعے کے بعد انہوں نے قریبی کھینسر تھانے میں این سی درج کرائی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او نے زمین کا دورہ بھی کیا، تاہم واقعے کو 18 روز گزرنے کے باوجود پولیس کی جانب سے انہیں صرف یہ یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ نوجوان کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ متاثرہ شخص نے مزید بتایا کہ زمین کے معاملے پر تنازع کے دوران مختیارکار نصراللہ ہنگھورو اور تپیدار سکندر سمیجو نے بھی موقع پر جا کر زمین کا معائنہ کیا۔ ان کے مطابق متعلقہ ریونیو افسران کو زمین کے ملکیتی کاغذات دکھائے گئے، جس کے بعد مختیارکار نے زمین ان کے نام قرار دیتے ہوئے دین محمد بجیر کو پابند کیا۔ چنیسر کوسو کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کی ایک کاپی اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) آفس اور ایک کاپی ڈپٹی کمشنر آفس میں بھی موجود ہے۔ چنیسر کوسو نے اعلیٰ حکام اور پولیس سے اپیل کی ہے کہ ان کے لاپتا بیٹے دیدار حسین کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے، واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ متاثرہ والد نے کہا کہ وہ ایک غریب شخص ہیں اور کئی دنوں سے اپنے بیٹے کی تلاش کے باعث سخت پریشان ہیں، لہٰذا انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔



