چالان کم کیے تو شوکاز، سروس ضبط اور تبادلہ!ٹریفک پولیس کے وارڈن نے اپنے ہیCTOکے خلاف محاذکھول دیا

لاہور(جانوڈاٹ پی  کے)سٹی ٹریفک پولیس فیصل آباد میں مبینہ طور پر چالان کے اہداف، محکمانہ سزاؤں، ای-چالان کے لیے سہولیات کی عدم فراہمی اور پولیس ویلفیئر فنڈ میں بے ضابطگیوں کے خلاف ٹریفک وارڈن نے اپنے ہی محکمے کے سربراہ، چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) فیصل آباد کے خلاف صوبائی محتسب پنجاب لاہور سے رجوع کرلیا ہے۔

ڈرائیونگ سکول ڈجکوٹ میں تعینات ٹریفک وارڈن عثمان کی جانب سے صوبائی محتسب پنجاب کو جمع کرائی گئی درخواست میں سی ٹی او فیصل آباد کی مبینہ پالیسیوں اور اقدامات پر متعدد سنگین نوعیت کے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹریفک پولیس کی بنیادی ذمہ داری ٹریفک کی روانی بہتر بنانا، شہریوں کو سہولت فراہم کرنا اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں مبینہ طور پر زیادہ سے زیادہ چالان کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

درخواست کے مطابق ایسے ٹریفک وارڈنز جو مقررہ تعداد میں چالان مکمل نہیں کرتے، انہیں مبینہ طور پر محکمانہ کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ٹریفک وارڈن عثمان کا دعویٰ ہے کہ کم تعداد میں چالان کرنے کی پاداش میں اسے بھی تین شوکاز نوٹسز اور ایک چارج شیٹ جاری کی گئی، جبکہ مبینہ طور پر اس کی چھ ماہ کی سروس ضبط کرتے ہوئے سزا کے طور پر تبادلہ بھی کیا گیا۔

درخواست گزار کے مطابق چالان کے اہداف مقرر کیے جانے اور انہیں پورا کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے سے ٹریفک وارڈنز کی توجہ ٹریفک مینجمنٹ سے ہٹ کر صرف چالان کی تعداد پوری کرنے پر مرکوز ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نہ صرف اہلکاروں پر غیر ضروری دباؤ بڑھ رہا ہے بلکہ ٹریفک پولیس کی بنیادی ذمہ داریوں کی انجام دہی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ای-چالان کے لیے سرکاری سہولیات کی عدم فراہمی کا اعتراض

ٹریفک وارڈن نے ای-چالان کے نظام کے حوالے سے بھی درخواست میں اہم اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ای-چالان کے لیے تمام اہلکاروں کو سرکاری موبائل فون، مناسب ڈیوائس یا انٹرنیٹ پیکیج فراہم نہیں کیا گیا، جس کے باعث انہیں سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے اپنی جیب سے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر کسی اہلکار سے سرکاری ڈیوٹی کے دوران جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کارروائی لینے کا تقاضا کیا جاتا ہے تو اس مقصد کے لیے ضروری آلات، انٹرنیٹ اور دیگر سہولیات فراہم کرنا بھی محکمہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ای-چالان کے نظام سے متعلق اہلکاروں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا جائے اور انہیں مطلوبہ وسائل فراہم کیے جائیں۔

ویلفیئر فنڈ کی آمدن و اخراجات کی تحقیقات کا مطالبہ

ٹریفک پولیس کے ویلفیئر فنڈ کے حوالے سے بھی درخواست میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ٹریفک وارڈن عثمان کے مطابق ٹریفک پولیس کا تقریباً سوا کروڑ روپے ماہانہ ویلفیئر فنڈ جمع ہوتا ہے، تاہم اس فنڈ کی آمدن اور اخراجات کی مکمل تفصیلات شفاف انداز میں اہلکاروں کے سامنے آنی چاہئیں۔

درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ ویلفیئر فنڈ میں جمع ہونے والی رقم، اس کے استعمال اور اہلکاروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا باقاعدہ آڈٹ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ فنڈ کے استعمال سے متعلق حقائق سامنے آسکیں۔

بیماری کے باوجود مالی معاونت نہ ملنے کا دعویٰ

وارڈن عثمان نے اپنی درخواست میں ذاتی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ گزشتہ 13 سال سے شوگر کے مرض میں مبتلا ہے اور علاج کے اخراجات کے سلسلے میں ویلفیئر فنڈ سے مالی معاونت کا خواہاں رہا ہے۔

درخواست کے مطابق ٹریفک وارڈن گزشتہ چار ماہ کے دوران چار مرتبہ سی ٹی او فیصل آباد کے سامنے پیش ہو چکا ہے، تاہم اس کے باوجود اسے مبینہ طور پر ویلفیئر فنڈ سے مطلوبہ مالی معاونت فراہم نہیں کی گئی۔

درخواست گزار نے صوبائی محتسب سے استدعا کی ہے کہ ویلفیئر فنڈ سے متعلق اس کے معاملے کا بھی جائزہ لیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ اہلکاروں کو طبی یا دیگر ہنگامی ضروریات کے لیے فنڈ سے مالی معاونت فراہم کرنے کا طریقہ کار کیا ہے اور اس پر کس حد تک عملدرآمد ہو رہا ہے۔

سابق ڈی ایس پی اور کمرشل گاڑیوں کے چالان کا معاملہ بھی درخواست میں شامل

ٹریفک وارڈن کی درخواست میں ایک سابق ڈی ایس پی پر مبینہ کرپشن کے الزامات اور کمرشل گاڑیوں کے چالان کے معاملے میں مبینہ بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم ان معاملات کے حوالے سے حتمی حقائق کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان تمام معاملات کی غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال یا محکمانہ ناانصافی کی حقیقت سامنے آسکے۔

غیر جانب دارانہ انکوائری اور کارروائی کا مطالبہ

صوبائی محتسب پنجاب کو دی گئی درخواست کے اختتام پر ٹریفک وارڈن عثمان نے اپنے خلاف مبینہ طور پر کی گئی غیر قانونی محکمانہ سزاؤں اور کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے، سی ٹی او فیصل آباد کے اقدامات کی باقاعدہ انکوائری کرانے اور الزامات ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف محکمانہ و فوجداری کارروائی عمل میں لانے کی استدعا کی ہے۔

درخواست گزار نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کو دیگر پولیس فورسز کی طرح رسک الاؤنس دیا جائے اور انہیں سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے ضروری موبائل ڈیوائسز، انٹرنیٹ اور دیگر وسائل فراہم کیے جائیں۔

اب اس معاملے میں صوبائی محتسب پنجاب کی جانب سے درخواست پر کیا کارروائی کی جاتی ہے اور متعلقہ محکمہ ان الزامات کا کیا جواب دیتا ہے، یہ آئندہ پیش رفت میں سامنے آئے گا۔ تاہم ایک ٹریفک وارڈن کی جانب سے اپنے ہی محکمے کے سربراہ کے خلاف باقاعدہ محتسب سے رجوع کرنے کے اس معاملے نے ٹریفک پولیس کے اندرونی انتظامی امور، چالان پالیسی اور اہلکاروں کی فلاح و بہبود سے متعلق اہم سوالات ضرور اٹھا دیے ہیں

مزید خبریں

Back to top button