بدین: ٹنڈوباگو کے رہائشیوں کا پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور پولیس کے ظلم اور ناانصافیوں کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ پی کے) ٹنڈوباگو کی مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والی خواتین اور مردوں نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور پولیس کے خلاف بدین پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی اور جھوٹے مقدمات ختم کرکے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا انسانی حقوق کی رہنما خیرالنساء ٹالپر بزرگ خاتون بیگم گاہو عثمان گاہو آدم تھیبو اور دلشاد عمرانی کی قیادت میں کیے گئے احتجاج کے دوران مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما ایریا واٹر بورڈ کے چیئرمین اور ضلع بدین کے سابق جنرل سیکریٹری سائیں بخش جمالی ان کے بھائی ٹاؤن چیئرمین صاحب خان جمالی میر منیر ٹالپر اور ان کے ساتھی خان محمد پٹھان و دیگر افراد سرکاری زمین سروے نمبر 223 پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ڈرینج نالے والی گلی پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔
مظاہرین کے مطابق قبضے کے خلاف احتجاج کرنے پر خان محمد پٹھان اور دیگر افراد نے پیپلز پارٹی رہنماؤں اور ڈی ایس پی محمود بھوت کی موجودگی میں خواتین اور مردوں کی تذلیل کی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا انہوں نے بتایا کہ متاثرین نے آئینی و قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ بینچ میں آئینی درخواست نمبر D-1183/2026 دائر کی جس کے بعد میر منیر ٹالپر سائیں بخش جمالی خان صاحب جمالی خان محمد پٹھان نے پولیس اہلکاروں اور مسلح افراد کے ذریعے مقدمے سے دستبردار ہونے کے لیے سنگین جانی دھمکیاں دی گئیں متاثرین نے مزید الزام عائد کیا کہ ڈی ایس پی ٹنڈوباگو محمود بھوت کی موجودگی میں مسلح افراد نے ان کے گھروں پر دھاوا بول دیا گھروں میں داخل ہوکر نقد رقم سونے کے زیورات اور دو موٹر سائیکلیں لوٹ لیں جبکہ خواتین اور مردوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیامظاہرین کے مطابق تشدد کے نتیجے میں خاتون شانہ گاہو کا نو ماہ کا حمل ضائع ہوگیا جبکہ دوسری خاتون نسیمہ گاہو کا چار ماہ کا حمل بھی ضائع ہوگیا دونوں خواتین حیدرآباد کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں ایک بزرگ خاتون بیگم گاہو کو بھی کلہاڑیوں کے وار کرکے زخمی کیا گیا جبکہ اسپتال سے جاری ہونے والا طبی حوالہ بھی ملزمان چھین کر لے گئے مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ قبضے کے تنازعے کی بنیاد پر مختلف برادریوں کے افراد کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے جارہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایس پی ٹنڈوباگو محمود بھوت ان کے خلاف مقدمات درج کروا رہے ہیں جبکہ خان محمد پٹھان کے خلاف 40 سے زائد مقدمات ہونے کے باوجود اسے گرفتار نہیں کیا جارہامظاہرین نے صدرِ مملکت بلاول بھٹو زرداری چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ گورنر سندھ کور کمانڈر سندھ وزیر اعلیٰ سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے انہوں نے ڈی ایس پی ٹنڈوباگو محمود بھوت کے خلاف بھی سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ان کی داد رسی نہ کی گئی تو وہ مزید سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔



