ایران:مجتبیٰ خامنہ ای کی سپریم لیڈر بننے کے بعد پہلی ویڈیو جاری

تہران(جانوڈاٹ پی کے)ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مارچ میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے تاحال منظرعام پر نہیں آئے ہیں ان کے بیانات بھی پھڑکر سنائے جاتے ہیں اس لیے ان کے بارے میں تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں وہ ایک وفد سے گفتگو کر رہے ہیں اور مکمل صحت یاب دکھائی دے رہے ہیں۔
اس ویڈیو پر کوئی تاریخ درج نہیں ہے البتہ سرکاری میڈیا نے اسے اس طرح وائرل کیا ہے کہ جیسے یہ ویڈیو مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے کے بعد کی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ ویڈیو کہاں، کس مقصد کے لیے اور کب ریکارڈ کی گئی تھی۔
ایران کا نیم سرکاری خبر رساں ادارہ مہر سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے کے قریب سمجھا جاتا ہے تاہم اس ویڈیو کو ایران کے دیگر بڑے سرکاری ذرائع ابلاغ نے نمایاں طور پر نشر نہیں کیا۔
سی این این کے مطابق ویڈیو دیکھنے پر لگتا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایک گروپ کو کوئی مذہبی درس دے رہے ہیں اور اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فوٹیج حالیہ جنگ سے پہلے ریکارڈ کی گئی تھی۔
سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور موجودہ مقام سے متعلق خدشات ختم ہونے کے بجائے مزید قیاس آرائیوں نے جنم لیا ہے۔
یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو مارچ میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا تھا۔
نئے منصب پر فائز ہونے کے بعد سے وہ عوامی سطح پر کسی تقریب، خطاب یا براہِ راست ٹیلی وژن نشریات میں نظر نہیں آئے۔ ان کے نام سے پیغامات سرکاری میڈیا پر پڑھ کر سنائے جاتے رہے ہیں۔
یہاں تک کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین میں بھی شرکت نہیں تھی۔
سپریم لیڈر کی یہ غیر معمولی خاموشی گزشتہ کئی ماہ سے ان کی صحت اور سیکیورٹی سے متعلق سوالات کا باعث بنی ہوئی ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے بارے میں قیاس آرائیوں کی ایک بڑی وجہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر شروع کی گئی بمباری کے دوران ان کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
سی این این سے بات کرنے والے ذرائع نے مارچ میں دعویٰ کیا تھا کہ حملوں کے پہلے روز مجتبیٰ خامنہ ای کے پاؤں میں فریکچر ہوا تھا اور چہرے پر معمولی زخم بھی آئے تھے۔
بعد میں ایرانی حکام کی جانب سے ان کی صحت کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آتے رہے۔ بعض ایرانی حکام نے ان کی صحت کو درست قرار دیا جبکہ دیگر رپورٹس میں ان کے زخمی ہونے کی بات کی گئی۔
مئی میں بھی ایک ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ’مکمل صحت‘ میں ہیں اور اپنے دفتر سے امور چلا رہے ہیں۔



