آئینے میں صرف چہرہ نہیں اپنی صحت بھی دیکھئے؛7 اہم ہیلتھ الارم!

راجہ نوید

​چہرہ صرف ایک انسان کی شناخت، اس کے خدوخال یا اندرونی احساسات کا ترجمان نہیں ہوتا، بلکہ یہ درحقیقت انسان کی اندرونی صحت کا ایک خاموش آئینہ دار بھی ہوتا ہے۔ ہم اکثر آئینہ دیکھتے ہوئے اپنے چہرے کی معمولی تبدیلیوں کو محض موسمی اثرات، تھکن یا خوبصورتی کا کوئی معمولی نقص سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی بظاہر نظر آنے والی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں دراصل جسم کے اندر پلنے والی کسی خاموش بیماری یا گہری طبی الجھن کا ابتدائی اشارہ ہو سکتی ہیں۔ ماہرین صحت کا ماننا ہے کہ اگر انسان اپنے چہرے پر نمودار ہونے والی علامتوں کو وقت پر پڑھنا سیکھ لے تو وہ کئی پیچیدہ بیماریوں کو شدت اختیار کرنے سے پہلے ہی قابو میں لا سکتا ہے۔

​اگر آپ کی آنکھوں کی سفیدی یا چہرے کی جلد پر ہلکی سی زردی نمایاں ہونے لگے تو یہ اس بات کا صاف اشارہ ہے کہ جسم میں بلیروبن نامی مادے کی مقدار بڑھ رہی ہے۔ نوخیز بچوں میں تو جگر کی غیر فعال تیاری کی وجہ سے یہ زردی عام اور بے ضرر سمجھی جاتی ہے، لیکن ایک بالغ انسان کے چہرے پر یرقان کے یہ اثرات جگر، پتے یا لب لبے کی گہری خرابی، کسی خطرناک وائرل انفیکشن یا پھر الکحل کے مسلسل استعمال کا پتا دیتے ہیں۔ اسی طرح ہم میں سے بیشتر افراد کے چہرے پر چھوٹے بڑے تل موجود ہوتے ہیں جنہیں ہم خوبصورتی کا باعث سمجھتے ہیں۔ لیکن اگر کسی تل کی بناوٹ میں ناہمواری آنے لگے، اس کے کنارے کٹے پھٹے محسوس ہوں، اس کا رنگ یکساں نہ رہے یا اس کا سائز عام مٹر کے دانے سے بڑا ہو کر تیزی سے بدلنے لگے تو یہ جلد کے کینسر کی ابتدائی نشانی ہو سکتی ہے جس پر فوری طبی توجہ لازمی ہے۔

​ہمارے منہ کے گرد اکثر چھوٹے چھوٹے دردناک چھالے نکل آتے ہیں جنہیں ہم گرمی یا معدے کی تیزابیت سے جوڑتے ہیں، جبکہ یہ ہرپیز سمپلیکس وائرس کی موجودگی کا نتیجہ ہوتے ہیں جو جسم کے اندر خاموشی سے سویا رہتا ہے اور شدید ذہنی دباؤ، تھکاوٹ یا سخت دھوپ ملتے ہی چہرے پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سردیوں کی آمد کے ساتھ ہونٹوں کا پھٹنا ایک عام بات معلوم ہوتی ہے، مگر اگر عام مرطب استعمال کرنے کے باوجود یہ مسئلہ قائم رہے تو یہ جسم میں پانی کی شدید کمی، کسی خاص دوا کے سائیڈ ایفیکٹس یا الرجی کی نشاندہی کرتا ہے۔

​کبھی کبھار انسان کے ناک کی ہڈی اور دونوں گالوں پر تتلی کے پروں کی شکل میں ایک خاص قسم کی سرخی یا چٹاخ ابھر آتا ہے۔ لوگ اسے عام جِلدی الرجی سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں، حالانکہ طبی سائنس میں یہ ’لیوپس‘ نامی ایک خطرناک خودکار مدافعتی بیماری کی علامت ہے، جس میں انسان کا اپنا دفاعی نظام اس کے اپنے ہی اعضا پر حملہ آور ہونے لگتا ہے۔ اس کے ساتھ اگر جوڑوں کا درد اور بخار بھی شامل ہو جائے تو معاملے کو بالکل ہلکا نہیں لینا چاہیے۔

​ایک اور اہم پہلو چہرے پر غیر معمولی بالوں کا اگنا ہے۔ بڑھتی عمر میں مردوں کے کانوں یا خواتین کی ٹھوڑی پر ایک دُکا بال آنا فطری ہے، لیکن اگر کسی جوان خاتون کے چہرے پر اچانک گھنے اور سخت بال ابھرنے لگیں تو یہ ہارمونز کی شدید خرابی اور ’پی سی او ایس‘ کا واضح ثبوت ہوتا ہے جو آگے چل کر بانجھ پن کا سبب بن سکتا ہے۔ آخر میں اگر آنکھوں کے پپوٹوں کے گرد پیلے رنگ کے ابھار نظر آئیں تو یہ محض خوبصورتی کا نقصان نہیں بلکہ جلد کے نیچے کولیسٹرول کے جمنے کی خطرناک علامت ہے جو مستقبل میں دل کے دورے یا شریانوں کی بندش کی خبر دیتی ہے۔ اگر ہم اپنے چہرے کے ان خاموش پیغاموں کو بروقت سمجھ لیں تو ہم ایک بڑی طبی افتاد سے بچ سکتے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button