بدین کے 2300 خاندان ڈیڑھ سال سے بینوولنٹ فنڈکی پینشن سے محروم،10 کروڑ روپے سندھ حکومت کے پاس رکے ہونے کا انکشاف

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ پی کے)ضلع بدین سے تعلق رکھنے والے دورانِ ملازمت انتقال کر جانے والے اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی بیوائیں، بچے اور دیگر لواحقین گزشتہ ڈیڑھ سال سے بینوولنٹ فنڈ کی پینشن سے محروم ہیں۔ محکمہ بینوولنٹ فنڈ کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بدین کے تقریباً 2,300 متوفی اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے مختص تقریباً 10 کروڑ روپے کی رقم سندھ حکومت کے پاس 2025ء سے زیرِ التوا ہے اور تاحال جاری نہیں کی گئی۔
ذرائع کے مطابق سندھ کے مختلف سرکاری محکموں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی ماہانہ تنخواہوں سے باقاعدگی کے ساتھ بینوولنٹ فنڈ کی مد میں کٹوتی کی جاتی ہے۔ قانون کے مطابق دورانِ ملازمت وفات پانے والے یا ریٹائر ہونے والے ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو اسی فنڈ سے ماہانہ مالی معاونت اور پینشن فراہم کی جانی چاہیے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہر سال بدین کے لیے دو سے تین کروڑ روپے جاری کیے جاتے رہے ہیں، تاہم مستحقین کو مکمل پینشن کے بجائے صرف 25 فیصد ادائیگی کی جاتی ہے، جس کے باعث کئی بیواؤں اور ریٹائرڈ ملازمین کو سالانہ محض دو سے پانچ ہزار روپے ہی ملتے ہیں متاثرہ خاندانوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ مہنگائی میں یہ رقم نہایت ناکافی ہے، جبکہ ان کی اپنی جمع شدہ رقوم سے حکومت منافع حاصل کر رہی ہے۔ انہوں نے سندھ اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قانون کے مطابق تمام واجبات فوری طور پر جاری کیے جائیں اور ہر ماہ باقاعدہ پینشن ادا کی جائے تاکہ ان کے گھروں کے معاشی مسائل کم ہو سکیں۔



