بنگلادیش میں 7 ماہ کے بچے کی عارضی تحویل 13 سالہ ماں کے حوالے، مستقل فیصلہ فیملی کورٹ کرے گی

ڈھاکا(مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلادیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں عدالت نے 7 ماہ کے بچے کی عارضی تحویل 13 سالہ ماں کے حوالے کر دی ہے، جبکہ بچے کی مستقل سرپرستی کا فیصلہ فیملی کورٹ کرے گی۔

رپورٹس کے مطابق 13 سالہ لڑکی نے بچے کی تحویل کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا، جس پر ڈھاکہ ڈسٹرکٹ لیگل ایڈ آفس میں سماعت ہوئی۔

کارروائی کے بعد ڈسٹرکٹ لیگل ایڈ آفیسر اور سینئر اسسٹنٹ جج محمد صائم خان نے قرار دیا کہ قانون کے مطابق سات ماہ کا بچہ فی الحال اپنی ماں کے پاس رہے گا۔

عدالت نے نوعمر ماں کو ہدایت کی کہ کیس زیرِ سماعت رہنے تک وہ فیس بک، ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال نہ کرے، جبکہ تمام فریقین کو عدالتی کارروائی کے دوران قانون کی پابندی کرنے کی ہدایت کی گئی۔

لیگل ایڈ حکام کے مطابق بچے کے والد نے مستقل سرپرستی کے لیے درخواست دائر کر رکھی ہے، جو اس وقت فیملی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔

بنگلادیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق لڑکی کی ٹک ٹاک کے ذریعے ایک نوجوان سے دوستی ہوئی، جس کے بعد دونوں نے مبینہ طور پر کورٹ میرج کی۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لڑکی نے 11 سال کی عمر میں شادی کی اور 12 سال کی عمر میں بچے کو جنم دیا۔

لڑکی نے الزام عائد کیا ہے کہ سسرال میں اسے مبینہ طور پر جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گھر سے نکالتے وقت اس کا بیٹا بھی اس سے جدا کر دیا گیا۔

مزید خبریں

Back to top button