بیوی قتل کیس میں شوہر بری، لاہور ہائیکورٹ کی قانونِ شہادت کے آرٹیکل 122 پر اہم تشریح

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے بیوی کے قتل کے مقدمے میں شوہر تنویر کو بری کرتے ہوئے قانونِ شہادت کے آرٹیکل 122 کی اہم تشریح کر دی۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے ملزم کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں عدالت نے قرار دیا کہ آرٹیکل 122 کا اطلاق خودکار طور پر نہیں ہوتا بلکہ پہلے استغاثہ کو قابلِ اعتماد براہ راست یا ضمنی شواہد کے ذریعے ملزم کا جرم سے تعلق ثابت کرنا ہوتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق واقعہ 18 مئی 2020 کو ضلع چنیوٹ میں پیش آیا، جہاں استغاثہ کے مطابق ملزم نے اپنی اہلیہ نسرین بی بی کو مبینہ طور پر دوپٹے سے گلا دبا کر قتل کیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے 17 جنوری 2022 کو شریک ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا تھا، جبکہ تنویر کو عمر قید، چار لاکھ روپے جرمانہ اور دیگر سزائیں سنائی گئی تھیں، جس کے خلاف ملزم نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مقتولہ کی غیر طبعی موت شوہر کے گھر میں ہوئی، اس لیے قانونِ شہادت کے آرٹیکل 122 کے تحت ملزم پر موت کی وجوہات واضح کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
تاہم لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ صرف اس بنیاد پر کہ بیوی کی غیر طبعی موت شوہر کے گھر میں ہوئی، ملزم سے وضاحت طلب نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ فوجداری مقدمات میں جرم ثابت کرنے کا بنیادی بوجھ ہمیشہ استغاثہ پر ہوتا ہے اور ملزم کی خاموشی کو جرم کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمے میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر، عینی گواہوں کے بیانات میں تضادات، طبی شہادت کی خامیاں، دوپٹے کی برآمدگی اور کال ڈیٹا ریکارڈ سے ملزم کا وقوعہ سے تعلق ثابت نہ ہونا استغاثہ کے مقدمے کو مشکوک بناتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ پیدا ہونے والے معقول شک کا فائدہ قانون کے مطابق ملزم کو دیا جانا چاہیے، جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے تنویر کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کر دیا جبکہ مدعی کی سزا بڑھانے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔



