فولک ایسڈ کیوں ضروری ہے؟ فوائد، کمی کی علامات اور قدرتی ذرائع

تحریر: راجہ نوید
فولک ایسڈ وٹامن B9 کی مصنوعی شکل ہے، جبکہ قدرتی طور پر خوراک میں موجود یہی وٹامن فولیٹ کہلاتا ہے۔ یہ پانی میں حل ہونے والا ایک ضروری وٹامن ہے جسے ہمارا جسم خود نہیں بنا سکتا، اس لیے اسے روزانہ متوازن غذا یا ضرورت پڑنے پر سپلیمنٹس کے ذریعے حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ جسم کے خلیات کی نشوونما، خون کی تیاری اور کئی اہم حیاتیاتی افعال کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
جسم میں فولک ایسڈ صحت مند سرخ خون کے خلیات (Red Blood Cells) بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جن کی بدولت تمام حصوں تک آکسیجن پہنچتی ہے۔ یہ خلیات کی تقسیم، نئے خلیات کی تشکیل اور ڈی این اے (DNA) کی تیاری و مرمت کے لیے بھی ضروری ہے۔ حمل کے دوران اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ بچے کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی درست نشوونما میں مدد دیتا ہے اور پیدائشی نقائص کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
یہ وٹامن خون کی کمی (اینیمیا) سے بچانے میں مدد دیتا ہے اور جسم میں صحت مند خون کی پیداوار برقرار رکھتا ہے۔ یہ دماغ اور اعصابی نظام کے افعال کو بہتر بناتا ہے، یادداشت اور ذہنی کارکردگی کو سہارا دیتا ہے اور جسم میں توانائی برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ دل کی صحت کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ خون میں بعض نقصان دہ مادوں کی مقدار کو متوازن رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے، جس سے دورانِ خون بہتر رہتا ہے اور جسم کے مختلف اعضاء تک آکسیجن کی مناسب فراہمی ممکن ہوتی ہے۔
جسم میں اس کی کمی ہونے پر شدید تھکن، کمزوری اور ہر وقت سستی محسوس ہو سکتی ہے کیونکہ خون کے سرخ خلیات مناسب مقدار میں نہیں بن پاتے۔ اس کے علاوہ یادداشت کی کمزوری، ذہنی الجھن اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ بعض افراد کی زبان سرخ اور سوجی ہوئی ہو جاتی ہے جبکہ منہ میں بار بار دردناک چھالے نکلنے لگتے ہیں۔ جلد کی رنگت پیلی یا بے رونق دکھائی دے سکتی ہے، معمولی جسمانی مشقت سے سانس پھول سکتا ہے اور چکر آنے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ کچھ افراد میں ہاتھوں یا پاؤں میں سوئیاں چبھنے جیسا احساس، پٹھوں کی کمزوری، بھوک میں کمی، غیر ارادی وزن میں کمی یا ہاضمے کی خرابی جیسے مسائل بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
اس کمی کو پوری کرنے کا بہترین طریقہ متوازن غذا ہے۔ ہری پتوں والی سبزیاں جیسے پالک، ساگ اور بروکلی، دالیں، چنے، لوبیا، مٹر، مالٹے اور دیگر ترش پھل، انڈے اور بعض اناج اس وٹامن کے اچھے ذرائع ہیں۔ اگر جسم میں فولک ایسڈ کی کمی زیادہ ہو، خون کی کمی موجود ہو یا حمل کی منصوبہ بندی یا حمل کے دوران اضافی ضرورت ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے اس کے سپلیمنٹس استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ مناسب خوراک اور بروقت علاج سے اس وٹامن کی کمی کو آسانی سے پورا کیا جا سکتا ہے۔



