لاہور: پولیس تحویل میں چوری کے الزام میں گرفتار 2 خواتین جاں بحق

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے تھانہ ٹاؤن شپ اور لٹن روڈ کی تحویل میں چوری اور فراڈ کے الزام میں گرفتار دو خواتین کی اچانک موت واقع ہو گئی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لاہور پولیس تھانہ غازی آباد میں اے ایس آئی عمران کی جانب سے ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کے واقعے پر پہلے ہی شدید تنقید کا شکار ہے۔

تفصیلات کے مطابق، شہریوں کی جانب سے چوری اور دھوکہ دہی کی شکایت اور ایمرجنسی 1122 کی کال پر آپریشنز ونگ نے دونوں خواتین کو حراست میں لیا تھا۔ مدعیِ مقدمہ کا الزام تھا کہ خواتین نے گھر میں داخل ہو کر زیورات اور نقدی چوری کی، جہاں مقامی لوگوں نے انہیں پکڑ کر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں پولیس کے حوالے کر دیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق، ایک ملزمہ ٹاؤن شپ تھانے اور دوسری کو لٹن روڈ تھانے میں خواتین پولیس کی تحویل کے دوران طبیعت بگڑنے اور بے ہوش ہونے پر ریسکیو 1122 کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کی۔

ترجمان پولیس نے حراستی تشدد کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق دونوں خواتین منشیات کی عادی تھیں اور ان کی موت منشیات کی زائد مقدار (اوور ڈوز) کے استعمال کے باعث ہوئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاشوں کے پوسٹ مارٹم اور اعلیٰ سطح کی انکوائری کے بعد ہی موت کی حقیقی وجوہات سامنے آ سکیں گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل غازی آباد تھانے میں ہونے والے زیادتی کے واقعے پر ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس ایچ او، سب انسپکٹرز اور اے ایس آئیز سمیت 78 اہلکاروں کو معطل کر کے مقدمہ درج کروا دیا تھا۔

مزید خبریں

Back to top button